data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان کا کہنا ہے کہ حکومت سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات چاہتی ہے اور اس عمل کو جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے، لیکن تاحال اپوزیشن کی جانب سے کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن کو تین مرتبہ باضابطہ طور پر مذاکرات کی دعوت دی جا چکی ہے، مگر ہر بار جواب یا تو تاخیر کا شکار رہا یا پھر مکمل خاموشی اختیار کی گئی، سیاسی مسائل کا حل سڑکوں پر نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر نکلتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ سیاسی اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے اور یہی طرزِ عمل آئین اور جمہوریت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، بات چیت ہمیشہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ہوتی ہے اور یہ عمل ہر جماعت کا آئینی، جمہوری اور سیاسی حق بھی ہے۔

انہوں نے بانی پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ کھلے عام مذاکرات سے انکار کر چکے ہیں اور ان کی سیاست کا محور تصادم، اسٹریٹ موومنٹ اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

رانا ثناءاللہ نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک مرتبہ پھر 9 مئی جیسے واقعات کو دہرانے کے خواہاں ہیں تاکہ ملک کو انتشار کی جانب دھکیلا جا سکے۔

ن لیگ کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے پہیہ جام ہڑتال اور احتجاجی اقدامات کی باتیں کی جا رہی ہیں، تاہم ایسے حربے ماضی میں بھی ناکام رہے ہیں اور مستقبل میں بھی عوام انہیں مسترد کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی بالغ نظری اور مکالمہ ہی واحد راستہ ہے، جبکہ محاذ آرائی ملک اور جمہوریت دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مذاکرات کی کی جانب کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا