پہلے مرحلے میںشہر کا انفراسٹرکچر تباہ کرنیوالے 150افسران کو شوکاز نوٹس جاری ، وزیراعلی کا گرین سگنل
ادارے میں احتساب کا عمل شروع،رٹ کو صوبے میں بحال کیا جارہا ہے، ایڈیشنل ڈائریکٹر فرحان قیصر

کراچی میں غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران کو نوکریوں سے برطرف کئے جانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے شہر کا انفراسٹرکچر تباہ کرنے والے عناصر کیخلاف سخت کارروائی کا گرین سگنل دیدیا۔جس کے بعد ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آپریشن کی جانب سے ڈیڑھ سو سے زائد افسران وملازمین کو دیئے گئے شوکاز نوٹس کے بعد ان کے جواب سے مطمئن نہ ہونے کی صورت میں محکمہ جاتی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ایس بی سی اے کے ذرائع کے مطابق تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ملوث افسران کو نوکریوں سے برطرف کئے جانے کے ساتھ قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں غیر قانونی تعمیرات کا سسٹم چلانے والے افسران کی شامت آگئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث اور ان کی سرپرستی کرنے والے افسران کو نوکریوں سے برطرف کئے جانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کا انفراسٹرکچر تباہ کرنے والے افسران کیخلاف سخت کارروائی کا گرین سگنل دیدیا ہے جس کے بعد ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آپریشن فرحان قیصر کی جانب سے ادارے کے ڈیڑھ سو سے زائد افسران وملازمین کو غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ہونے کی شکایات پر شوکاز نوٹس جاری کئے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جن افسران وملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے ان کے جواب سے مطمئن نہ ہونے کی صورت میں ان افسران کیخلاف کارروائی کا سلسلہ بڑھاتے ہوئے مزید تحقیقات کے بعد ان افسران وملازمین کو نوکریوں سے برطرف کئے جانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔اس حوالے سے ایس بی سی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل فرحان قیصر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ایس بی سی اے کے حوالے سے جو منفی تاثر پیش کیا جاتا ہے اس کو ختم کرنے کیلئے ادارے میں احتساب کا عمل شروع کیا گیا ہے، ادارے کی رٹ کو پورے صوبے میں بحال کیا جارہا ہے اور غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات اٹھارہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کو نوکریوں سے برطرف کئے جانے غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران وملازمین کو ایڈیشنل ڈائریکٹر کارروائی کا ایس بی سی اے شوکاز نوٹس افسران کو کا فیصلہ کے بعد

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار