کراچی کو عالمی معیار کا شہر بنانے کا عزم، سندھ حکومت کی ایف ڈبلیو او سے شراکت داری
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کراچی کی ترقی کے لیے ایک جامع اور پائیدار منصوبہ نافذ کرنا چاہتی ہے، جس کے تحت شہر کو دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ بنایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عبدالسمیع کی سربراہی میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے وفد نے ملاقات میں کراچی کے میگا اور اہم ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ کراچی کے لیے 84 ارب 79 کروڑ 60 لاکھ روپے کا ترقیاتی پیکج دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے علاوہ 26 ارب 20 کروڑ روپے کی مزید رقم کی بھی منظوری دی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے صنعتی علاقوں کے لیے 9 ارب روپے کی منظوری، منصوبوں کی تکمیل کا ہدف 6 ماہ
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ ایف ڈبلیو او کے ساتھ شراکت داری میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنا چاہتے ہیں تاکہ معیار اور رفتار دونوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی کے تمام میگا اور اہم منصوبوں کی بہترین ڈیزائننگ ہونی چاہیے، کیونکہ شہر کی ترقی کسی صورت عالمی معیار سے کم نہیں ہونی چاہیے۔
اہم منصوبوں میں ایم 9 جناح ایونیو سے شاہراہ فیصل تک نئی سڑک کی تعمیر شامل ہے، جو سپر ہائی وے اور شہر کی اہم شاہراہوں سے منسلک ہوگی۔
اسی طرح ملیر ہالٹ پرنٹنگ پریس سے شاہراہ فیصل تک دائیں جانب انڈر پاس کا منصوبہ بھی شامل ہے، کیونکہ ملیر ہالٹ پر ٹریفک کے لیے راستہ انتہائی تنگ ہے جسے ختم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں: ’کتاب اور گلاب چرانے کو کبھی چوری نہیں سمجھا‘، وزیر تعلیم سندھ کا دلچسپ انکشاف
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ایئرپورٹ سے اسٹار گیٹ کی جانب فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا، جس سے ایئرپورٹ سے شاہراہ فیصل تک براہِ راست رسائی ممکن ہوگی۔
وائی جنکشن سے مچھلی چوک تک ہاکس بے روڈ کی تعمیر اور مسرور بیس سے ٹرک اسٹینڈ تک سڑک کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے۔
ان منصوبوں کا مقصد کراچی میں کمرشل اور ہیوی ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
مراد علی شاہ نے مزید بتایا کہ سہراب گوٹھ پر فلائی اوور کی تعمیر کا منصوبہ بھی شامل ہے، جہاں شہر کے اہم گیٹ وے ہونے کے ناتے ٹریفک کا شدید دباؤ رہتا ہے، ان کے مطابق ایسے مزید 7 منصوبے ہیں جن کے لیے مجموعی طور پر 84.
مزید پڑھیں: ایک ایک پائی کراچی کی ترقی پر خرچ کی جائے گی، مرتضیٰ وہاب
کراچی کے مختلف علاقوں میں 443 اندرونی سڑکوں کی تعمیر کی جائے گی، جبکہ ٹریفک مینیجمنٹ کے لیے 9 الگ منصوبے تیار کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ کے ایم سی کی 26 سڑکوں کی تعمیر، پارکس، سڑکوں اور فلائی اوورز کی بہتری کے کام بھی جاری ہیں۔
کراچی میں 9 اہم منصوبوں، بڑی سڑکوں کی تعمیر اور 7 سڑکوں کی تزین و آرائش بھی شامل ہے۔
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف ڈبلیو او، محکمہ بلدیات اور کے ایم سی کے افسران فوری طور پر منصوبوں کی ڈیزائننگ شروع کریں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ ڈیزائن اور یوٹیلٹیز کی منتقلی فروری تک مکمل کی جائے، جبکہ تمام ترقیاتی کام مارچ 2026 سے شروع کر دیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف ڈبلیو او ٹریفک ڈیزائن سندھ سندھ حکومت شاہراہ فیصل فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن فلائی اوور گیٹ وے مراد علی شاہ ملیر ہالٹ وزیر اعلی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف ڈبلیو او ٹریفک ڈیزائن سندھ حکومت شاہراہ فیصل فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن فلائی اوور گیٹ وے مراد علی شاہ ملیر ہالٹ وزیر اعلی ایف ڈبلیو او مراد علی شاہ شاہراہ فیصل سڑکوں کی کراچی کے کی تعمیر شامل ہے کے لیے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔