وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو سندھ میں خوش آمدید کہتے ہیں، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
کراچی پریس کلب میں نئے عہدیداران کو مبارکباد پیش کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی سے سنگین اختلافات اپنی جگہ لیکن کوئی مہمان بن کر آرہا ہے تو ویلکم کریں گے، ان سے ہاتھ ملانے نہیں جارہے، ان کی طرز سیاست اور طرز حکمرانی پر اعتراضات ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورہ کراچی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سہیل آفریدی سندھ میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے آنا چاہتے ہیں تو خوش آمدید کہیں گے، بحیثیت وزیراعلیٰ انہیں پروٹوکول دیا جائے گا۔ کراچی پریس کلب میں نئے عہدیداران کو مبارکباد پیش کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو آئین و قانون کے دائرے میں تمام سرگرمیوں کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے سنگین اختلافات اپنی جگہ لیکن کوئی مہمان بن کر آرہا ہے تو ویلکم کریں گے، ان سے ہاتھ ملانے نہیں جارہے، ان کی طرز سیاست اور طرز حکمرانی پر اعتراضات ہیں۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں اس سے اختلاف ہے، پی ٹی آئی نے اختلاف اور گالیاں دینے کے علاوہ کیا ہی کیا ہے۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی اولین ترجیح صحت کا شعبہ ہے، ہماری صحت کی سہولتیں دنیا کے کسی بھی ملک سے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی پیپلز پارٹی ہمیشہ صحافیوں کے ساتھ تعاون کرتی آئی ہے، سندھ حکومت صحافیوں کو درکار ہر مدد فراہم کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔