کراچی پریس کلب میں نئے عہدیداران کو مبارکباد پیش کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی سے سنگین اختلافات اپنی جگہ لیکن کوئی مہمان بن کر آرہا ہے تو ویلکم کریں گے، ان سے ہاتھ ملانے نہیں جارہے، ان کی طرز سیاست اور طرز حکمرانی پر اعتراضات ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورہ کراچی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سہیل آفریدی سندھ میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے آنا چاہتے ہیں تو خوش آمدید کہیں گے، بحیثیت وزیراعلیٰ انہیں پروٹوکول دیا جائے گا۔ کراچی پریس کلب میں نئے عہدیداران کو مبارکباد پیش کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو آئین و قانون کے دائرے میں تمام سرگرمیوں کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے سنگین اختلافات اپنی جگہ لیکن کوئی مہمان بن کر آرہا ہے تو ویلکم کریں گے، ان سے ہاتھ ملانے نہیں جارہے، ان کی طرز سیاست اور طرز حکمرانی پر اعتراضات ہیں۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں اس سے اختلاف ہے، پی ٹی آئی نے اختلاف اور گالیاں دینے کے علاوہ کیا ہی کیا ہے۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی اولین ترجیح صحت کا شعبہ ہے، ہماری صحت کی سہولتیں دنیا کے کسی بھی ملک سے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی پیپلز پارٹی ہمیشہ صحافیوں کے ساتھ تعاون کرتی آئی ہے، سندھ حکومت صحافیوں کو درکار ہر مدد فراہم کرتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن