امیر جماعت اسلامی کراچی نے کتے کے کاٹنے اور گٹر میں اموات کا ذمہ دار میئر کو قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے شہر میں کتے کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور گٹروں میں گر کر شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس صورتِ حال کا براہِ راست ذمہ دار میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو قرار دے دیا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے ان مسائل کی براہِ راست ذمہ داری میئر کراچی مرتضیٰ وہاب پر عائد کرتے ہوئے سندھ حکومت کی کارکردگی پر بھی سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔
منعم ظفر نے کہا کہ شہر میں انتظامی غفلت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ایک ہی ہفتے کے دوران کتوں کے کاٹنے کے 800 سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جو شہریوں کی جان و مال کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آوارہ کتوں کے حملے ہوں یا کھلے گٹروں میں گر کر اموات، یہ سب بلدیاتی نظام کی ناکامی کا واضح ثبوت ہیں اور اس کا سیاسی و انتظامی بوجھ میئر کراچی کو اٹھانا ہوگا۔
انہوں نے کراچی کی گزشتہ تین دہائیوں کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے انتظامی معاملات میں 35 برس تک ایم کیو ایم سیاہ و سفید کی مالک رہی ہے اور ہر دور میں اقتدار کا حصہ بنی رہی، ایم کیو ایم نے ہمیشہ حکومت کے ساتھ رہ کر سیاست کی اور وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے کی روش اپنائے رکھی۔
دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کتے کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ صورتحال کی سنگینی سے بخوبی آگاہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آوارہ کتوں کی نیوٹرنگ کا عمل اپنایا جائے تو اس میں وقت لگتا ہے اور فوری نتائج ممکن نہیں ہوتے، جبکہ شہری روزانہ متاثر ہو رہے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے واضح کیا کہ 20 سے 25 افراد ایسے ہیں جو کتوں کو مارنے کے خلاف عدالتوں سے رجوع کر کے حکمِ امتناع حاصل کر لیتے ہیں، جس کے باعث بلدیاتی اقدامات رُک جاتے ہیں، موجودہ حالات میں فوری اور مؤثر کارروائی کے لیے کتوں کو مارنا ناگزیر ہو چکا ہے اور اکثریتی رائے بھی اسی اقدام کے حق میں ہے۔
میئر کراچی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس معاملے پر ایک واضح اور حتمی فیصلہ سامنے آئے تاکہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میئر کراچی کے کاٹنے کہا کہ
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ