data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے شہر میں کتے کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور گٹروں میں گر کر شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس صورتِ حال کا براہِ راست ذمہ دار میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو قرار دے دیا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے ان مسائل کی براہِ راست ذمہ داری میئر کراچی مرتضیٰ وہاب پر عائد کرتے ہوئے سندھ حکومت کی کارکردگی پر بھی سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔

منعم ظفر نے کہا کہ شہر میں انتظامی غفلت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ایک ہی ہفتے کے دوران کتوں کے کاٹنے کے 800 سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جو شہریوں کی جان و مال کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آوارہ کتوں کے حملے ہوں یا کھلے گٹروں میں گر کر اموات، یہ سب بلدیاتی نظام کی ناکامی کا واضح ثبوت ہیں اور اس کا سیاسی و انتظامی بوجھ میئر کراچی کو اٹھانا ہوگا۔

انہوں نے کراچی کی گزشتہ تین دہائیوں کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے انتظامی معاملات میں 35 برس تک ایم کیو ایم سیاہ و سفید کی مالک رہی ہے اور ہر دور میں اقتدار کا حصہ بنی رہی، ایم کیو ایم نے ہمیشہ حکومت کے ساتھ رہ کر سیاست کی اور وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے کی روش اپنائے رکھی۔

دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کتے کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ صورتحال کی سنگینی سے بخوبی آگاہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آوارہ کتوں کی نیوٹرنگ کا عمل اپنایا جائے تو اس میں وقت لگتا ہے اور فوری نتائج ممکن نہیں ہوتے، جبکہ شہری روزانہ متاثر ہو رہے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے واضح کیا کہ 20 سے 25 افراد ایسے ہیں جو کتوں کو مارنے کے خلاف عدالتوں سے رجوع کر کے حکمِ امتناع حاصل کر لیتے ہیں، جس کے باعث بلدیاتی اقدامات رُک جاتے ہیں، موجودہ حالات میں فوری اور مؤثر کارروائی کے لیے کتوں کو مارنا ناگزیر ہو چکا ہے اور اکثریتی رائے بھی اسی اقدام کے حق میں ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس معاملے پر ایک واضح اور حتمی فیصلہ سامنے آئے تاکہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میئر کراچی کے کاٹنے کہا کہ

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار