مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے رومما میں سخت گیر یہودی فرقے (حریدی) کے ہزاروں مظاہرین ایک شاہراہ پر احتجاج کر رہے تھے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یروشلم میں ہونے والا یہ بڑا مظاہرہ درآصل فوج میں بھرتی کے متنازع پالیسی کے خلاف کیا جا رہا تھا۔

مظاہرے میں شامل یہودیوں نے ایسے بینرز اُٹھا رکھے تھے جن میں لکھا تھا کہ یا تو حریدی بنو، یا فوجی — دونوں نہیں” اور “گناہ کرنے سے بہتر ہے مر جانا”۔

مظاہرے کے دوران بھیڑ اس قدر بڑھ گئی کہ بیریکیڈ ٹوٹنے لگے، میڈیا ایریا میں دھکم پیل ہوئی اور جھگڑے بھی دیکھنے میں آئے۔

مظاہرین نے شمگر اسٹریٹ اور یرمیاہو اسٹریٹ کے چوراہے کو بلاک کر رکھا تھا اور سڑک پر ٹائر بھی نذرآتش کر رکھے تھے اور شدید نعرے بازی جاری تھی۔

احتجاج کے دوران متعدد مقامات پر ڈمپسٹر جلائے گئے، پولیس اور صحافیوں پر پتھر اور انڈے پھینکے گئے۔ جس میں کئی صحافی زخمی بھی ہوئے۔

اسی دوران حریدی علاقوں میں چلنے والی ایک تیز رفتار مسافر بس اچانک مظاہرین کے ہجوم میں داخل ہوگئی اور متعدد افراد کو کچل  دیا۔

عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے مطابق بس ایک نوجوان کو کئی میٹر تک گھسیٹتی رہی۔ یوسف آئزن تھال بس کے نیچے پھنس گیا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

اس واقعے میں 14 سالہ لڑکا یوسف آئزن تھال ہلاک ہوگیا جب کہ 3 دیگر افراد زخمی ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

پولیس نے بس ڈرائیور کو حراست میں لیا جس نے دوران تفتیش بتایا کہ مظاہرین نے اسے گھیر کر حملہ کیا گیا اور گاڑی کو آگے بڑھنے سے روکا جا رہا تھا۔

عبرانی میڈیا کے مطابق ڈرائیور نے واقعے سے قبل پولیس ہیلپ لائن پر مدد کی درخواست بھی کی تھی۔

الٹرا آرتھوڈوکس جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ یہودیت (UTJ) نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بس ڈرائیور کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اس کے برعکس، قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے کہا کہ تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں جبکہ صدر اسحاق ہرزوگ نے واقعے کو خطرناک انتباہ قرار دیتے ہوئے تحمل سے کام لینے اور مزید سانحات سے بچنے کی اپیل کی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا