نیمار کے سپر لگژری پرائیوٹ جیٹ، ہیلی کاپٹر اور بیٹ موبائل کی سوشل میڈیا پر دھوم
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
برازیلین فٹبال اسٹار نیمار جونیئر کے سپر لگژری پرائیوٹ جیٹ، ہیلی کاپٹر اور بیٹ موبائل نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی۔
اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر برازیل کے عالمی شہرت یافتہ فٹبال اسٹار نیمار نے اپنی شاہانہ زندگی کی ایک اور جھلک دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’خواب سچ ہوسکتے ہیں‘۔
نیمار نے حال ہی میں تقریباً 13 لاکھ پاؤنڈ (پاکستانی 49 کروڑ روپے سے زائد) مالیت کی ایک بیٹ موبائل خریدی ہے، جو اگرچہ وہ سڑک پر نہیں چلا سکتے، مگر ان کی لگژری کلیکشن کا منفرد حصہ بن چکی ہے۔
شیئر کی گئیں تصاویر اور ویڈیوز میں نیمار کی نئی بیٹ موبائل ان کے نجی ہیلی کاپٹر اور سیاہ رنگ کے پرائیویٹ جیٹ کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔
سیری اے فٹبال، نیمار کیریئر کی بدترین شکست پر رو پڑے
برازیل کے اسٹار فٹبالر نیمار نے سعودی کلب "الہلال" سے راہیں جدا کرلیں
یہ بیٹ موبائل دراصل ایک ریپلیکا ہے جسے 50 افراد کی ٹیم نے 3 سال کے عرصے میں تیار کیا ہے۔
بیٹ موبائل کے علاوہ نیمار کے پاس تقریباً ایک کروڑ پاؤنڈ (پاکستانی 3 ارب 77 کروڑ روپے سے زائد) مالیت کا بیٹ کاپٹر اور 3 کروڑ 70 لاکھ پاؤنڈ (پاکستانی ایک کھرب 39 ارب روپے سے زائد) کا ڈسالٹ فالکن پرائیویٹ جیٹ بھی موجود ہے، جس سے ان کی اس کلیکشن کی مجموعی مالیت تقریباً 5 کروڑ پاؤنڈ (پاکستانی ایک کھرب 88 ارب روپے سے زائد) تک پہنچ جاتی ہے۔
نیمار بیٹ مین کے بڑے مداح ہیں اور 2022 میں فلم ’دی بیٹ مین‘ کے پریمیئر میں بھی شرکت کر چکے ہیں۔
View this post on Instagramاس کے علاوہ نیمار کے کار کلیکشن میں رولز رائس گھوسٹ، بینٹلے، لیمبورگینی، آسٹن مارٹن اور دیگر مہنگی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔
سعودی کلب الہلال کے ساتھ بھاری معاہدے کے بعد ان کی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور موجودہ اندازوں کے مطابق ان کے اثاثے 33 کروڑ پاؤنڈ (پاکستانی تقریباً 12 کھرب 45 ارب روپے) سے زائد ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روپے سے زائد بیٹ موبائل کاپٹر اور
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔