ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج، ہلاکتوں کی تعداد 35 تک پہنچ گئی، 1200 گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
تہران: ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف احتجاجی مظاہرے مسلسل دسویں روز بھی جاری ہیں۔
مختلف شہروں میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی ہے، جبکہ سیکڑوں افراد زخمی اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق تہران، شیراز اور ایران کے مغربی علاقوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے، جن کے دوران تقریباً 1200 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں 250 پولیس اہلکار اور بسیج فورس کے 45 ارکان زخمی ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیںایران کے چیف جسٹس نے مظاہرین کو سخت وارننگ دے دی، احتجاج 78 شہروں تک پھیل گیا
ایران میں مزید مظاہرین ہلاک ہوئے تو امریکا ’بہت زوردار‘ حملہ کر سکتا ہے، ٹرمپ کی دوبارہ دھمکی
ایرانی وزارت خارجہ نے ان مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔
ادھر ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے واضح کیا ہے کہ ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلانے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے ایرانی حکومت نے ہر شہری کو ماہانہ مالی الاونس دینے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق ہر فرد کو چار ماہ تک ماہانہ 10 لاکھ تومان (تقریباً 7 امریکی ڈالر) کریڈٹ کی صورت میں دیے جائیں گے، جنہیں مخصوص اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔
U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔