جعلی کالز اور پیغامات، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے عوام کو خبر دار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: جعلی اور اسپوف شدہ یو اے این نمبروں سے آنے والی کالز اور پیغامات کے حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے عوام کو خبردار کردیا۔
پی ٹی اے کے مطابق جعلی اور اسپوف شدہ یو اے این نمبروں سے آنے والی کالز اور پیغامات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دھوکہ باز خود کو پی ٹی اے، این سی سی آئی اے، بینکوں یا موبائل والٹ سروسز (جیسے ایزی پیسہ اور جاز کیش کا نمائندہ ظاہر کر کے لوگوں سے ذاتی اور مالی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
گھڑ سواری میں پاکستان کا تاریخی اعزاز، عثمان خان عالمی رینکنگ میں سرفہرست
جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ایسے افراد عام طور پر آپ کی سم، بینک اکاؤنٹ یا موبائل والٹ بند کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اور کال، ایس ایم ایس یا واٹس ایپ کے ذریعے اوٹی پی، شناختی کارڈ نمبر، پن یا بائیو میٹرک معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پی ٹی اے نے مزید کہا کہ یاد رکھیں، کوئی بھی سرکاری ادارہ یا بینک کبھی بھی کال، میسج یا لنک کے ذریعے آپ کی ذاتی یا مالی معلومات طلب نہیں کرتا۔اگر آپ کو ایسی کال یا میسج موصول ہو تو فورآپی ٹی اے CMS کمپلینٹ پورٹل پر رپورٹ کرسکتے ہیں۔
نجی یونیورسٹی کی زخمی طالبہ کے علاج کیلئےقائم میڈیکل بورڈ کی تشکیل نو
آپ این سی سی آئی اے کو بھی رپورٹ کر سکتے ہیں .
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پی ٹی اے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔