وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کے لیے ’مختلف آپشنز‘ پر غور کر رہے ہیں، جن میں فوجی طاقت کے استعمال کا امکان بھی شامل ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق گرین لینڈ کا حصول امریکا کے لیے قومی سلامتی کی ترجیح ہے۔

ڈنمارک اور یورپی ممالک کا سخت ردِعمل

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ کے کئی اہم ممالک نے ڈنمارک کی حمایت میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔ ڈنمارک، جو گرین لینڈ کا دفاع اور خارجہ امور سنبھالتا ہے، صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کی سختی سے مخالفت کر رہا ہے۔

ٹرمپ کے بیانات اور نیٹو پر خدشات

صدر ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں ایک بار پھر کہا کہ امریکہ کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر گرین لینڈ ’درکار‘ ہے۔ اس پر ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے حملے کی کوشش کی تو یہ نیٹو اتحاد کے خاتمے کے مترادف ہو گا۔

وائٹ ہاؤس کا مؤقف

وائٹ ہاؤس نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ صدر اور ان کی ٹیم اس اہم خارجہ پالیسی مقصد کے حصول کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے، اور بطور کمانڈر اِن چیف امریکی فوج کا استعمال ہمیشہ ایک آپشن ہوتا ہے۔

یورپی اتحادیوں کا مشترکہ بیان

منگل کو برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین اور ڈنمارک کے رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ گرین لینڈ اس کے عوام کا ہے، اور اس سے متعلق فیصلے صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ ہی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے گرین لینڈ پر امریکی دعویٰ، یورپی طاقتوں نے ڈنمارک کی حمایت کر دی

انہوں نے زور دیا کہ آرکٹک خطے کی سلامتی نیٹو اتحادیوں کے باہمی تعاون سے یقینی بنائی جانی چاہیے، اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں، خصوصاً خودمختاری اور سرحدوں کے احترام کو برقرار رکھا جائے۔

گرین لینڈ کی قیادت کا ردِعمل

گرین لینڈ کے وزیراعظم جینز فریڈرک نیلسن نے یورپی بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات باہمی احترام اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں ہونے چاہئیں۔

امریکا کے اندر سخت مؤقف

ٹرمپ کے سینئر مشیر اسٹیفن ملر نے کہا کہ یہ امریکی حکومت کی باضابطہ پوزیشن ہے کہ گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گرین لینڈ کے مستقبل پر امریکا سے کوئی لڑائی نہیں کرے گا۔

خریداری یا آزادانہ معاہدے کی تجویز

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا کے پاس گرین لینڈ کو براہِ راست خریدنے یا اس کے ساتھ کمپیکٹ آف فری ایسوسی ایشن کرنے جیسے آپشنز موجود ہیں۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی وضاحت

امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکا گرین لینڈ کے عوام کے ساتھ طویل المدتی تجارتی تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرکٹک میں مشترکہ دشمنوں کی سرگرمیاں امریکا، ڈنمارک اور نیٹو سب کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

فوجی منصوبہ بندی کے اشارے

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایک کانگریس سماعت میں کہا تھا کہ پینٹاگون ہر ممکن صورتحال کے لیے منصوبے رکھتا ہے۔

گرین لینڈ کے عوام میں خوف اور بے چینی

گرین لینڈ کے مغربی شہر الیولیسات میں رہنے والے 27 سالہ مقامی باشندے مورگن اینگاجو نے بتایا ’یہ خوفناک ہے کہ دنیا کا طاقتور ترین رہنما ہمیں ایسے بات کر رہا ہے جیسے ہم کوئی زمین کا ٹکڑا ہوں جس پر قبضہ کیا جا سکتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: ڈنمارک، برطانیہ اور فرانس نے ٹرمپ کی گرین لینڈ پر دعوے کی مخالفت

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں گرین لینڈ کو بھی وینزویلا جیسے انجام کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

گرین لینڈ: ایک اسٹریٹجک خطہ

واضح رہے کہ گرین لینڈ کی آبادی تقریباً 57 ہزار ہے۔ اسے 1979 سے خودمختار حیثیت حاصل ہے، تاہم دفاع اور خارجہ امور ڈنمارک کے پاس ہیں۔
اگرچہ زیادہ تر گرین لینڈرز ڈنمارک سے آزادی چاہتے ہیں، لیکن رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امریکا کا حصہ بننے کی شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ وینزویلا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ وینزویلا کہ گرین لینڈ گرین لینڈ کے وائٹ ہاؤس انہوں نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔

بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی

آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان