گرین لینڈ پر امریکی دعویٰ، یورپی طاقتوں نے ڈنمارک کی حمایت کر دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
یورپی رہنماؤں کے ایک گروپ نے مشترکہ بیان میں گرین لینڈ کو ڈنمارک کا حصہ قرار دیتے ہوئے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نیٹو رکن ریاست کی علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک بار پھر خودمختار ڈینش خطے گرین لینڈ پر قبضے میں دلچسپی کا اظہار کیا، ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن نے وینزویلا پر حملہ کر کے اس کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈنمارک، برطانیہ اور فرانس نے ٹرمپ کی گرین لینڈ پر دعوے کی مخالفت
اس کے بعد ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ جب ٹرمپ گرین لینڈ کی خواہش کا اظہار کریں تو انہیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
European leaders rallied behind Greenland after US President Trump renewed threats to take over the Danish territory, emphasizing that only Denmark and Greenland should decide their future https://t.
— Reuters (@Reuters) January 6, 2026
منگل کو جاری ہونے والے اس دستاویز پر میٹے فریڈرکسن، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، جرمن چانسلر فریڈرک مرٹس، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے علاوہ اٹلی، اسپین اور پولینڈ کے رہنماؤں کے دستخط موجود ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ گرین لینڈ اس کے عوام کا ہے، ڈنمارک اور گرین لینڈ سے متعلق معاملات پر فیصلہ کرنے کا حق صرف اور صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ کو حاصل ہے۔
مزید پڑھیں: کیا صدر ٹرمپ امریکا کو تنہا اور کمزور بنا رہے ہیں؟
صدر ٹرمپ طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ اپنی تذویراتی اہمیت کے باعث وسائل سے مالا مال اس آرکٹک جزیرے پر امریکا کا کنٹرول ہونا چاہیے۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ کوپن ہیگن گرین لینڈ کا مؤثر تحفظ نہیں کر سکتا، اور اس ضمن میں علاقے میں روسی اور چینی بحری سرگرمیوں کا حوالہ دیا ہے۔ تاہم ماسکو کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی آرکٹک میں کسی کو دھمکی نہیں دی۔
European leaders issue joint statement defending Greenland sovereignty after Trump renews annexation threats
Six NATO allies unite: France, Germany, UK, Italy, Spain, Poland stand with Denmark
"Greenland ????️elongs to its people"
Arctic security now top EU priority pic.twitter.com/MIKrCxKG2u
— Boi Agent One (@boiagentone) January 6, 2026
یورپی رہنماؤں کے بیان میں کہا گیا ہے کہ نیٹو کے یورپی اتحادی آرکٹک خطے کو ایک ترجیح سمجھتے ہیں اور اسے ’محفوظ رکھنے اور ممکنہ مخالفین کو روکنے‘ کے لیے اپنی کوششیں بڑھا رہے ہیں۔
تاہم اس دستاویز میں امریکا کی جانب سے گرین لینڈ حاصل کرنے کی خواہش کی کھل کر مذمت نہیں کی گئی، اس کے برعکس، امریکا کو آرکٹک میں ’سلامتی کے دفاع میں ایک اہم شراکت دار‘ قرار دیا گیا ہے اور واشنگٹن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں، بالخصوص خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سرحدوں کے تقدس، کی پاسداری کرے۔
مزید پڑھیں: گرین لینڈ کے باشندوں کا ٹرمپ کو منہ توڑ جواب
یورپی یونین نے ہفتے کے روز امریکا کی جانب سے تیل سے مالا مال وینزویلا پر حملے، صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے اغوا اور انہیں منشیات اسمگلنگ کے الزامات پر مقدمے کے لیے نیویارک منتقل کیے جانے کے بعد بھی اسی نوعیت کا محتاط ردِعمل ظاہر کیا تھا۔
اتوار کو یورپی یونین کی سفارتی سروس کی جانب سے جاری بیان میں نہ تو امریکی کارروائیوں کی حمایت کی گئی اور نہ ہی مذمت، بلکہ ’تحمل اور ضبط‘ پر زور دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے منشور کی پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرکٹک امریکا ایمانوئل میکرون ڈونلڈ ٹرمپ صدر ٹرمپ کیئر اسٹارمر گرین لینڈ ماسکو نیٹو وینزویلا یورپی اتحادی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رکٹک امریکا ایمانوئل میکرون ڈونلڈ ٹرمپ کیئر اسٹارمر گرین لینڈ ماسکو نیٹو وینزویلا یورپی اتحادی گرین لینڈ گیا ہے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔