وینزویلا سے 50 ملین بیرل تیل کی خریداری، رقم عوامی فائدے کے لیے استعمال ہوگی، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اعلان کیا کہ وینزویلا کی عارضی انتظامیہ امریکا کو 30 سے 50 ملین بیرل اعلیٰ معیار کا تیل مارکیٹ قیمت پر فروخت کرے گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ توانائی کے وزیر کرس رائٹ کو فوری طور پر اس منصوبے کو عملی شکل دینے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ تیل کو ذخیرہ کرنے والی شپوں کے ذریعے براہِ راست امریکی بندرگاہوں تک پہنچایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: وینزویلا میں آئندہ 30 دن میں انتخابات نہیں ہوں گے، صدر ٹرمپ
انہوں نے مزید کہا کہ اس رقم کا کنٹرول صدر کے طور پر خود سنبھالیں گے، لیکن اسے وینزویلا اور امریکا کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس جمعہ کو آئل کمپنیز کے اعلیٰ حکام سے ملاقات بھی کرے گا، جس میں ایکسن، شیورون اور کونکو فِلپس کے نمائندگان شریک ہوں گے۔
وینزویلا دنیا کے تیل کے بڑے ذخائر میں سے قریباً پانچواں حصہ رکھتا ہے، لیکن تجزیہ کاروں نے تنبیہ کی کہ پیداوار میں فوری اضافہ انفراسٹرکچر، کم قیمتیں اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
وینزویلا کی عارضی صدر ڈلسی روڈریگِز نے کہا کہ کسی بھی غیر ملکی طاقت کا ان کے ملک پر حکومت نہیں، اور امریکی دعوے کے باوجود وہ مکمل خود مختار ہیں۔ وینزویلا حکومت ذمہ دار ہے اور کوئی غیر ملکی ایجنٹ حکومت نہیں کر رہا۔
مزید پڑھیں: کتنے فیصد امریکی وینزویلا کیخلاف صدر ٹرمپ کی کارروائی کے حامی نکلے؟
ٹرمپ کے دعوے کے بعد، وینزویلا کی فوج نے پہلے بار اپنے نقصان کی تصدیق کی اور 23 فوجی اہلکاروں، بشمول 5 جرنیلوں، کے ہلاک ہونے کی فہرست جاری کی۔ اس کے ساتھ ہی حلیف ملک کیوبا نے بھی 32 فوجی ہلاک ہونے کی تصدیق کی، جن میں 2 کرنل اور ایک لیفٹیننٹ کرنل شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تیل صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تیل صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا وینزویلا کی
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔