گرین لینڈ کو حاصل کرنے کیلیے فوجی کارروائی خارج از امکان نہیں، وائٹ ہاؤس
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
واشنگٹن:
وائٹ ہاؤس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں امریکی فوج کے استعمال کا امکان بھی مکمل طور پر خارج نہیں کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے گزشتہ روز جاری بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ کا حصول امریکہ کی قومی سلامتی کی ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ آرکٹک خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ اور دشمن طاقتوں کو روکنے کے لیے یہ نہایت اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر اور ان کی ٹیم اس اہم خارجہ پالیسی ہدف کے حصول کے لیے مختلف راستوں پر غور کر رہی ہے، اور بطور کمانڈر ان چیف امریکی فوج کا استعمال بھی ہمیشہ ایک آپشن ہوتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے رواں ہفتے قانون سازوں کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ گرین لینڈ کو خریدنے کے امکان پر غور کر رہی ہے، تاہم انہوں نے فوری طور پر فوجی مداخلت کے خدشات کو کم اہم قرار دیا۔
اس معاملے سے آگاہ دو ذرائع کے مطابق، اگرچہ حالیہ مہینوں میں اس موضوع پر عوامی سطح پر بات نہیں کی گئی، لیکن پس پردہ غور و خوض جاری رہا۔
ذرائع کے مطابق مارکو روبیو کی ٹیم کی درخواست پر امریکی محکمہ خارجہ نے حالیہ مہینوں میں گرین لینڈ کے قدرتی وسائل پر ایک تجزیہ بھی تیار کیا، جس میں نایاب معدنیات (ریئر ارتھز) سمیت دیگر غیر استعمال شدہ وسائل شامل ہیں۔
تجزیے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ان وسائل کی اصل مقدار سے متعلق کوئی قابلِ اعتماد تحقیق موجود نہیں، جبکہ شدید سرد موسم اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کے باعث ان وسائل تک رسائی پر بھاری اخراجات آ سکتے ہیں۔
گرین لینڈ جو ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خود مختار خطہ ہے، اپنے قدرتی وسائل اور اسٹریٹجک محلِ وقوع کے باعث عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جبکہ امریکی بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث اور خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گرین لینڈ
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔