مظاہرین کے خلاف کارروائی نہ کی جائے، ایرانی صدرمسعود پزشکیان کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران:ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں جاری مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز کو شہریوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک دیا ہے اور پُرامن مظاہرین اور مسلح شرپسندوں میں واضح فرق کرنے کی ہدایت کی ہے۔
کابینہ اجلاس کے بعد جاری کی گئی ایک ویڈیو میں نائب صدر محمد جعفر نے بتایا کہ صدر پزشکیان نے سیکورٹی اداروں کو حکم دیا ہے کہ احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن نہ کیا جائے۔
صدر نے واضح کیا کہ جو افراد اسلحہ، چاقو یا دیگر ہتھیار لے کر پولیس اسٹیشنز اور فوجی تنصیبات پر حملے کر رہے ہیں، انہیں مظاہرین نہیں بلکہ شرپسند سمجھا جائے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے۔
نائب صدر کے مطابق صدر پزشکیان کا مؤقف ہے کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے اور ریاستی اداروں کو اس حق کا احترام کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران مختلف شہروں میں جھڑپیں ہوئیں، جن میں اب تک 35 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔