امریکا میں پاکستانیوں نے تاریخ رقم کردی؛ کیمبرج شہر کے میئر اور ڈپٹی میئر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر کیمبرج میں کراچی سے تعلق رکھنے والی سنبل صدیقی میئر جب کہ بورے والا کے برہان اعظم ڈپٹی میئر منتخب ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سیاست اور حکمرانی میں پاکستانی نژاد مسلمانوں نے یکے بعد دیگرے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیئے۔
کیمبرج شہر کی تاریخ میں پہلی بار میئر اور ڈپٹی میئر پاکستانی نژاد امریکی منتخب ہوگئے جو نہ صرف امریکا میں پاکستانی برادری بلکہ دیگر اقلیتوں کے لیے بھی اہم سنگِ میل ہے۔
5 جنوری کو ہونے والے سٹی کونسل انتخاب میں میئر کے عہدے کے لیے کراچی سے تعلق رکھنے والی سنبل صدیقی کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔
ڈپٹی میئر کے عہدے کے لیے بھی ایک پاکستانی برہان عظیم نے میدان مارلیا ہے جن کا تعلق پنجاب کے شہر بورے والا سے ہے۔
برہان عظیم کو شہر کا کم عمر ترین ڈپٹی میئر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے جب کہ سنبل صدیقی نے بھی مسلسل تیسری بار میئر منتخب ہوکر ریکارڈ بنالیا۔
سنبل صدیقی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور امریکی سیاست میں ایک متحرک اور بااثر نام سمجھی جاتی ہیں۔
وہ پہلی بار 2017 میں کیمبرج سٹی کونسل کی رکن منتخب ہوئی تھیں، جس کے بعد 2020 سے 2024 تک دو مرتبہ میئر کے فرائض انجام دے چکی ہیں۔
میساچوسٹس کی تاریخ میں سنبل صدیقی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ کیمبرج کی پہلی مسلمان میئر اور پہلی ایشیائی نژاد خاتون ہیں جو مسلسل تیسری بار اس منصب پر منتخب ہوئیں۔
نئے ڈپٹی میئر برہان عظیم معروف ماہرِ تعلیم پروفیسر منیر چوہدری کے صاحبزادے ہیں اور ایم آئی ٹی (MIT) بوسٹن سے انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
وہ اس سے قبل بھی کیمبرج کے کم عمر ترین کونسلر کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں جب کہ برہان عظیم دوسری بار کونسلر منتخب ہونے کے بعد اب شہر کے سب سے کم عمر ڈپٹی میئر بن گئے ہیں۔
اس تاریخی کامیابی پر امریکا اور پاکستان میں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے خوشی اور فخر کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں پاکستانی برہان عظیم ڈپٹی میئر
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔