پرامن مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کریں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی سیکیورٹی فورسز کو ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سیکیورٹی فورسز کو ہدایت دی ہے کہ وہ پرامن مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں اور مسلح شرپسندوں اور پرامن احتجاج کرنے والوں میں واضح فرق کیا جائے۔
ایران کے مختلف شہروں میں مہنگائی اور کرنسی کی گراوٹ کے خلاف احتجاج جاری ہیں۔ غیر سرکاری تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق، دسمبر 28 سے شروع ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے 13 ہلاکتیں رپورٹ کی ہیں، جن میں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایران کیخلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، آرمی چیف کا دشمنوں کو سخت انتباہ
نائب صدر محمد جعفر غائم پناہ نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ جو لوگ اسلحہ، چھریاں یا ہتھوڑوں کے ساتھ پولیس اسٹیشنز یا فوجی تنصیبات پر حملہ کرتے ہیں، وہ شرپسند ہیں۔ مظاہرین کو شرپسندوں سے الگ کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب، ایرانی آرمی کے چیف جنرل امیر حاتمی نے خبردار کیا کہ ایران بیرونی خطرات کو برداشت نہیں کرے گا۔ فارس نیوز کے مطابق، ہاتمی نے کہا کہ اگر دشمن کوئی غلطی کرے تو ایران کا ردعمل پچھلے جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: روس، چین، ایران اور کیوبا کے ساتھ اقتصادی تعلقات ختم کرو، امریکا کا وینزویلا سے سخت مطالبہ
بین الاقوامی سطح پر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہ ایران میں مداخلت کر سکتے ہیں، جبکہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے احتجاج کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتجاج ایران مظاہرین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔