ایران کے آرمی چیف کا امریکی بیانات پر سخت ردعمل، کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیں گے
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے خلاف کسی بھی جارحانہ بیان یا اقدام کو برداشت نہیں کرے گا اور مسلح افواج کسی بھی غلط حرکت کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیں گے۔
ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق میجر جنرل حاتمی نے فوجی اکیڈمی کے طلبہ سے خطاب میں خبردار کیا کہ دشمن اگر کوئی غلطی کرتا ہے تو اسے شدید نقصان اٹھانا پڑے گا اور کسی بھی جارح کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنے کے الزام میں کسی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔
میجر جنرل حاتمی نے واضح کیا کہ ایران کی مسلح افواج آج پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
واضح رہےکہ ایران میں اقتصادی بحران اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، نائب صدر محمد جعفر قائم پناہ نے کہا کہ ملک اقتصادی جنگ کا سامنا کر رہا ہے اور داخلی کرپشن اور رینٹیئر پالیسیوں کو ختم کرنے کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ حکومت نے شہریوں کو ماہانہ سات ڈالر کے مساوی سبسڈی بھی دینا شروع کر دی ہے، جس سے تقریباً 71 ملین افراد مستفید ہوں گے۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ایران کے 31 صوبوں میں سے 27 میں مظاہرے پھیل چکے ہیں اور اب تک 36 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 30 مظاہرین، 4 بچے اور 2 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔
ایران کی حکومت اقتصادی بحران، بیرونی خطرات اور داخلی احتجاجات کے دباؤ میں ہے اور ملک کے دفاع اور استحکام کے لیے فوجی تیاریوں کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔