دہشت گردی نہیں، صرف عمران خان کوختم کرنےکی باتیں ہیں، وزیر اعلیٰ کے پی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
ملٹری آپریشن کے مناظر دیکھ چکے ہیں، دوبارہ ملٹری آپریشن کے مناظر دیکھنا نہیں چاہتے، وزیراعلی آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ یہاں نیتوں میں فرق ہے، صرف بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو ختم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں، ملٹری آپریشن کے مناظر دیکھ چکے ہیں، دوبارہ ملٹری آپریشن کے مناظر دیکھنا نہیں چاہتے، وزیراعلی آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ پشاور میں منعقدہ کانووکیشن سے وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب کا آغاز اس شعر سے کیا کہ میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذہین میں اجالا، انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے ڈگری لینے کے بعد صوبے اور ملک کے لیے اپنی خدمات پیش کریں گے، وی سی صاحبہ نے انگلش میں تقریر کی جو مجھے اچھی نہیں لگی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام یونیورسٹیوں کو ہدایت ہے ہماری قومی زبان اردو ہے تقاریر اردو میں ہوں، میں نے پہلے بھی کہا تھا اب آئندہ مجھے غصہ آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک مائنڈ سیٹ نہیں چاہتا خیبر پختونخوا ترقی کرے، مجھے بہت برا لگا جب کل پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کو دوبارہ دہشت گردی کی طرف دھکیلا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلے خطرناک ہوتے ہیں، ملٹری آپریشن کی تیاری ہورہی ہے، 22 آپریشن، 14 ہزار ٹارگٹیڈ آپریشن ہوئے، ہم نے نشاندہی کی دہشت گرد آرہے ہیں، ہم نے رپورٹ دی، اگر آپریشن کرنا ہے تو اعتماد میں لیں، سیاسی جماعتوں، یہاں کے مشران کو اعتماد میں لیا جائے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ آپریشن سے ہمارے اسکول، اسپتال، گھر تباہ ہوئے، ملٹری آپریشن شروع ہونے سے پہلے ایک بھی بھیگ مانگنے والا نہیں تھا، آپریشن، ڈرون اٹیک دھماکوں سے لوگ شہید ہوئے، اپنی عورتوں کو بھیگ مانگتے دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے، ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک بار پھر قربانی کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہاں دہشتگردی کو ختم نہیں کیا جارہا، یہاں عمران خان اور پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، اگر انہوں نے دہشتگردی کو ختم کرنا ہوتا تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر پالیسی بناتے، ہم نے گھر چھوڑے اور ہمیں کہا گیا کہ آپ کو 4 لاکھ روپے ملیں گے لیکن ریاست پاکستان نے آج تک وہ پیسے نہیں دیے۔ انہوں نے کہا کہ ملٹری آپریشن کے مناظر دیکھ چکے ہیں، دوبارہ ملٹری آپریشن کے مناظر دیکھنا نہیں چاہتے، وزیراعلی آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بھائی آپ کے ساتھ کھڑا ہے، تعلیم بھی دیں گے اور روزگار بھی دیں گے، میری آنکھوں میں آنسو کا قطرہ دیکھیں یہ آپ کے مستقبل کے لیے ہوں گی۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ میری آنکھوں میں آنسوں ڈر کی وجہ سے نہیں ہوں گی، جو باتیں کرتے ہیں خیبر پختونخوا کو پہاڑوں کے دور میں دھکیلا جارہا ہے، انھیں ہم خیبر پختونخوا میں ترقی دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے لیے کو ختم
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔