وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلئے گرین سگنل دے دیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف نے سپیکر سردار ایاز صادق کو گرین سگنل دیا ہے جبکہ حکومتی وفد سپیکر کی درخواست پر مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں سے ہی مذاکرات ہوں گے، غیر منتخب نمائندوں سے بات چیت نہیں کریں گے۔ دوسری جانب سپیکر آفس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کیلئے تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باضابطہ رابطہ نہیں کیا،سردار ایاز صادق نے ابھی تک پارلیمانی کمیٹی برقرار رکھی ہوئی ہے، اپوزیشن رضا مند ہوئی تو فوری طور پر سپیکر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے۔ اس حوالے سے پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیکر کی پیشکش کے باوجود ابھی تک اپوزیشن نے ان سے رابطہ نہیں کیا ہے، سپیکر نے تحریک انصاف کو اپنے چیمبر میں آنے کی دعوت دی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف نے سپیکر سے آخری ملاقات محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کیلئے کی تھی۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سے مذاکرات پر کوئی رابطہ نہیں ہو سکا، ہمارے اتحادی واضح طور پر مذاکرات کے حق میں ہیں، ملک کو بہتر انداز میں چلانے کیلئے مذاکرات ضروری ہیں، پی ٹی آئی سپیکر کے چیمبر میں آئے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا معاملہ سپیکر نے حل کرنا ہے، کوئی معاملہ ایسا نہیں جو مذاکرات کے ذریعے حل نہ ہو، مذاکرات کیلئے تحریک انصاف کو سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے۔ طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ تحریک انصاف خود کنفیوژن کا شکار ہے، پی ٹی آئی کے دو دھڑے الگ الگ باتیں کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: مذاکرات کیلئے تحریک انصاف کا کہنا

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار