اچھی صحت کے لیے برطانیہ کی مسجد میں نمازیوں کے ورزش کے سیشنز، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
برطانیہ کی بریڈفورڈ کی جامع عثمانیہ مسجد میں ہر جمعرات کو 50 سال سے زائد عمر کے مردوں کے لیے مخصوص ورزش یعنی پائلٹس کے سیشنز کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر 2 ملین سے زائد ویوز حاصل کر لیے ہیں۔
مسجد کے سیکریٹری محمد الیاس نے بتایا کہ یہ کلاسز بوڑھوں کی صحت اور فلاح و بہبود بہتر بنانے کے لیے شروع کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں خواتین کے لیے بھی اسی طرح کے سیشنز متعارف کرانے کا ارادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سورج کی روشنی کا طویل ترین دن اور نیویارک ٹائمز اسکوائر میں یوگا فیسٹیول
محمد الیاس نے کہا کہ ہم واقعی حیران ہیں، یہ ویڈیو دنیا بھر میں وائرل ہو گئی ہے۔ ٹک ٹاک پر تقریباً 2 ملین ویوز اور فیس بک پر بھی کافی دیکھنے والوں کی تعداد ہے۔
ویڈیو کو دنیا بھر سے تبصرے موصول ہوئے، جن میں لوگ یہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ اپنی مساجد میں بھی اس طرح کے کلاسز کیسے شروع کر سکتے ہیں۔
کلاسز کے انسٹرکٹر نے کہا کہ وہ مردوں کی صحت اور لچک بڑھانے کے لیے پرجوش ہیں۔ ‘جوان مرد زیادہ تر باڈی بلڈنگ یا جسمانی صحت پر توجہ دیتے ہیں، لیکن عمر کے ساتھ مردوں کے لیے کم مواقع ہوتے ہیں۔ یہ کلاسز جسمانی، ذہنی اور روحانی فوائد فراہم کرتی ہیں۔’
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان میں مفت یوگا: پارکس کو آباد اور اسپتالوں کو خیر باد کہیں
عبید خان، جنہوں نے جون 2024 میں دل کے ٹرانسپلانٹ کے بعد کلاسز میں شمولیت اختیار کی، نے کہا کہ یہ نہ صرف جسمانی بلکہ جذباتی طور پر بھی بہت مددگار ہے۔ میں نے نئے لوگوں سے ملاقات کی اور کچھ دوست بھی بن گئے ہیں۔
اس مسجد میں انسٹرکٹر ہر کسی کو کلاس میں شامل کرتا ہے اور کلاس کے بعد سب ایک ساتھ چائے، پھل اور بسکٹ کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ یہ ایک گھنٹے کی ورزش گھر میں ٹی وی کے سامنے بیٹھنے سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہے۔
نمازیوں کے مطابق مسجد کو صرف نماز کے لیے نہیں بلکہ کمیونٹی ہب بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نئے قریبی عمارت میں خواتین کے لیے کلاسز بھی متعارف کرائی جائیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Pilates yoga مسجد نماز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔