الیکشن کیمپین کے دوران آتش بازی سے بالی ووڈ اداکارہ کی رہائشی بلڈنگ میں آتشزدگی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
بھارت کے شہر ممبئی میں الیکشن کیمپین کے دوران آتش بازی سے بالی ووڈ اداکارہ ڈیزی شاہ کی رہائشی بلڈنگ میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔
اداکارہ ڈیزی شاہ نے انسٹاگرام پر اس خطرناک واقعے کی ویڈیو شیئر کی اور شہریوں کی حفاظت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔
ڈیزی شاہ کے مطابق باندرہ میں ان کی رہائش گاہ کے بلکل برابر میں واقع ایک فلیٹ میں آگ لگ گئی، جس کی وجہ سیاسی مہم کے دوران جلائے گئے آتش بازی کے پٹاخے تھے۔
اداکارہ نے بتایا کہ انتخابی مہم کے نام پر ہونے والی جشن کی سرگرمیوں نے آس پاس رہنے والے لوگوں کی جان و مال کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔
ویڈیو میں شعلے اور دھواں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس نے سوشل میڈیا پر تشویش کی لہر دوڑا دی۔
ڈیزی شاہ کا کہنا تھا کہ گنجان آباد علاقوں میں اس طرح کی لاپرواہی ناقابلِ قبول ہے اور اس پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔
ان کے بیان کے بعد ممبئی میں انتخابی مہم کے دوران آتش بازی کے استعمال پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ شہریوں نے بھی حفاظتی اقدامات سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بعد ازاں ان پر سیاسی کارکنان کی جانب سے شدید تنقید کے بعد انہوں نے اپنے دفاع میں ایک اور ویڈیو شیئر کی جس میں واقعے کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے دوران ڈیزی شاہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔