خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نجکاری کمیشن کے امور پر اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہے۔ پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی کامیاب نجکاری بارش کا پہلا قطرہ ہے۔
وزیراعظم نے نجکاری کمیشن میں اصلاحات کے حوالے سے کام تیز کرنے اور نجکاری کمیشن میں نجی شعبے اور مارکیٹ سے بہترین صلاحیتوں کے حامل متعلقہ افرادی قوت کو تعینات کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر تعیناتیاں انتہائی شفاف انداز میں کی جائیں۔وزیراعظم نے نجکاری کمیشن کو ڈیجیٹائز کرنے اور نجکاری کمیشن کے منصوبوں کا بین الاقوامی معیار کی فرم سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کمیشن میں پبلک ریلیشنز اور مارکیٹنگ کے شعبے کو مزید بہتر بنایا جائے۔
اجلاس کو نجکاری کمیشن میں جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن میں مارکیٹ سے فنانس، ہیومن ریسورس، قانون، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیا مینجمنٹ کے حوالے سے ایڈوائرز بھرتی کئے جائیں گے۔ ۔نجکاری کمیشن میں مارکیٹ سے اسٹریٹیجی، پالیسی، ٹرانزیکشن اور پاور کے شعبوں کے کنسلٹینس تعینات ہوں گے۔ اسٹریٹیجک نظم و ضبط ، مضبوط گورننس ، ادارہ جاتی استعداد کی بہتری، اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شفاف روابط نجکاری کمیشن کی جاری اصلاحات کی بنیاد ہیں ۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو ابتدائی طور پر دو بیچز میں رکھا گیا ہے ۔ پہلے بیچ میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالا الیکٹرک پاور کمپنی اور فیصل آباد الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری ہو گی، دوسرے بیچ میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری ہو گی۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل نجکاری کمیشن میں کی نجکاری
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔