امریکی کوسٹ گارڈ اور فوج نے روسی تیل بردار جہاز قبضے میں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریکیاویک: امریکی کوسٹ گارڈ اور فوج نے آئس لینڈ کے قریب روسی پرچم والے تیل بردار جہاز کو پکڑ لیا، جو دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک امریکی اہلکاروں کے تعاقب میں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام وینزویلا کی تیل برآمدات پر امریکی پابندیوں کے نفاذ کے سلسلے میں کیا گیا۔ جہاز، جس کا نام اب میرینیرا ہے اور پہلے بیلا-1 کے نام سے جانا جاتا تھا، نے کیریبین میں امریکی سمندری بلاک کے دوران بار بار بچ نکلنے کی کوشش کی اور امریکی کوسٹ گارڈ کی سوار ہونے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔
امریکی یورپی کمانڈ نے تصدیق کی کہ جہاز کو امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی پر قبضہ میں لیا گیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے کہا کہ پابندیوں والے اور غیر قانونی وینزویلا کے تیل پر پابندی کا عمل دنیا کے کسی بھی حصے میں مکمل طور پر جاری ہے۔
حکام نے بتایا کہ روسی فوجی بحری جہاز، بشمول ایک آبدوز، کارروائی کے علاقے میں موجود تھے، تاہم کوئی براہِ راست تصادم نہیں ہوا۔ ماسکو کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔