تیل وینزویلا کا لیکن اختیار امریکا کا؛ ٹرمپ کے بیان کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں کمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
صدر ٹرمپ کے وینزویلا کے تیل کا اختیار لینے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وینزویلا کے صدر کی گرفتاری اور نیویارک کی عدالت میں مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے پیشی کے بعد امریکی صدر کا اہم بیان سامنے آیا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وینزویلا اب امریکا کو 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل خام تیل فراہم کرے گا اور امریکی آئل کمپنیاں وہاں سرمایہ کاری کریں گی۔
امریکی صدر کے اس اعلان کے بعد سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
بدھ کے روز عالمی معیار کا برینٹ کروڈ کی قیمت کم ہو کر 60 ڈالر فی بیرل تک آگئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں 1.
ایک معاہدے کے تحت اب امریکی صدر کو وینزویلا کے اُس تیل کو فروخت کرنے کا اختیار مل جائے گا جو امریکی پابندیوں کے باعث ٹینکروں اور ذخیرہ گاہوں میں روکا گیا تھا۔
کہا جا رہا ہے کہ جمع شدہ تیل کی مجموعی مالیت 3 ارب ڈالر تک ہوسکتی ہے اگر یہ تیل عالمی منڈی میں آجائے تو قیمتیں مزید نیچے جا سکتی ہیں۔
خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب کہ گزشتہ برس ہی تیل کی قیمتوں میں کووِڈ کے بعد سب سے بڑی سالانہ کمی دیکھی گئی۔
یہ پیش رفت چین کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ وینزویلا اپنی تقریباً 80 فیصد تیل برآمدات چین کو کرتا ہے۔
اگر امریکا اس تیل پر کنٹرول حاصل کرتا ہے تو چین کو مہنگے داموں تیل خریدنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے جس سے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے۔
خیال رہے کہ چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ وینزویلا کو اپنے قدرتی وسائل اور معاشی سرگرمیوں پر مکمل خودمختاری حاصل ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم امریکی صدر کے کنٹرول میں رہے گی تاکہ اسے امریکا اور وینزویلا کے عوام کے مفاد میں استعمال کیا جا سکے۔
ان کے مطابق یہ تیل ذخیرہ شدہ جہازوں سے براہِ راست امریکی بندرگاہوں تک منتقل کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ امریکی حکومت اور نجی کمپنیوں کو وینزویلا کی تیل کی صنعت تک مکمل رسائی دیں گی۔
اگرچہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں، تاہم بدانتظامی اور کرپشن کے باعث اس کی پیداوار 25 سال قبل 35 لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہو کر تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے، جو عالمی پیداوار کا ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
توانائی کنسلٹنسی رسٹاڈ انرجی کے مطابق وینزویلا کی تیل کی صنعت کو ماضی کی سطح تک لانے کے لیے کم از کم 15 سال اور تقریباً 185 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی قیمتوں میں وینزویلا کے امریکی صدر تیل کی کے بعد
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔