وینزویلا سے اعلیٰ معیار کا 50 ملین بیرل تیل امریکا لایا جائے گا: ٹرمپ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا سے 30 سے 50 ملین بیرل اعلیٰ معیار کا خام تیل امریکا منتقل کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ تیل امریکا میں مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن ان کے کنٹرول میں ہوگی، جسے امریکی اور وینزویلا کے عوام کے مفاد میں استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر اس منصوبے پر کام شروع کریں اور تیل کی ترسیل کو امریکی بندرگاہوں تک یقینی بنایا جائے۔
صدر کے اعلان سے قبل غیر ملکی میڈیا میں یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ وینزویلا سے تیل امریکا برآمد کرنے کے معاملے پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق وینزویلا کا خام تیل امریکی ریفائنریز کو فراہم کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکا نے دسمبر کے وسط سے وینزویلا سے تیل کی درآمدات معطل کر رکھی تھیں۔ توقع ہے کہ امریکی تیل کمپنیوں کے سربراہ وینزویلا میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کے لیے جمعرات کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے۔ تاہم وائٹ ہاؤس اور وینزویلا کے حکام نے اس نئی پیش رفت پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وینزویلا سے کیا جائے گا تیل امریکا
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔