لاطینی امریکا کی سیاسی تاریخ محض انقلابات اور آمریتوں کی داستان نہیں بلکہ یہ صدیوں پر محیط اس جدوجہد کا عکس ہے جس کا مرکز قومی خودمختاری، عوامی وقار اور بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت رہا ہے۔ انیسویں صدی میں یہ جدوجہد یورپی نوآبادیاتی طاقتوں، خصوصاً اسپین، کے خلاف تھی، جبکہ بیسویں صدی میں اس کا رخ بتدریج امریکا کی جانب ہو گیا، جو اس خطے کو اپنی اسٹریٹجک ’پچھواڑے‘ کے طور پر دیکھتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں:وینزویلا رجیم چینج، کیا امریکا ایک گہری دلدل میں پھنس رہا ہے؟

وقت گزرنے کے ساتھ لاطینی امریکا میں 2 واضح راستے ابھرے، ایک راستہ مزاحمت، قربانی اور خودمختاری کا تھا، جبکہ دوسرا راستہ بیرونی طاقتوں سے مفاہمت، وقتی استحکام اور ذاتی اقتدار کے تحفظ کا۔ تاریخ نے ان دونوں راستوں کو بالکل مختلف انجام دیے۔

خودمختاری کے علَم بردار قومی ہیروز

لاطینی امریکا کے قومی ہیروز مختلف نظریات اور سیاسی رجحانات سے تعلق رکھتے تھے، مگر ان سب کو ایک قدر نے جوڑے رکھا اور وہ تھی عوام کے مفادات اور قومی خودمختاری کا دفاع۔

میکسیکو میں میگوئل ہدالگو ای کوستیلا نے 1810 میں غلامی کے خاتمے اور مقامی آبادی کے حقوق کے نعرے کے ساتھ آزادی کی تحریک کا آغاز کیا۔ اگرچہ انہیں پھانسی دے دی گئی، مگر وہ آج بھی ’بابائے قوم‘ کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔

میگوئل ہدالگو ای کوستیلا

ان کے بعد خوسے ماریا موریلوس نے آزادی کی تحریک کو نظریاتی بنیاد دی۔ ان کی پیش کردہ دستاویز  غلامی کے خاتمے، عوامی اقتدار اور شہری حقوق کی ضمانت کا منشور تھا۔

وینزویلا کے سیمون بولیوار، جنہیں ’ایل لیبریٹاڈور‘ کہا جاتا ہے، پورے براعظم کی آزادی کی علامت بن گئے۔ ان کی قیادت میں وینزویلا، کولمبیا، ایکواڈور، پیرو اور بولیویا نے اسپینی اقتدار سے نجات حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیں:وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

ارجنٹینا، چلی اور پیرو میں خوسے دے سان مارٹن آزادی کے معمار سمجھے جاتے ہیں، جنہوں نے غلامی کے خاتمے اور قومی ریاستوں کے قیام میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

میکسیکو کے پنچو ویلا اور نکاراگوا کے آگوستو سینڈینو نے براہِ راست امریکی مداخلت کے خلاف مسلح مزاحمت کی اور قومی وقار کی علامت بن گئے۔ سینڈینو کی شہادت نے بعد ازاں سینڈینستا تحریک کو جنم دیا۔

جمہوری مزاحمت اور انقلابی سیاست

چلی کے صدر سالوادور آیندے نے جمہوری طریقے سے سوشلسٹ اصلاحات نافذ کرنے کی کوشش کی۔ امریکی حمایت یافتہ فوجی بغاوت کے دوران انہوں نے اقتدار چھوڑنے سے انکار کیا اور صدارتی محل میں جان دے دی، جس کے بعد وہ لاطینی امریکا میں جمہوری مزاحمت کی علامت بن گئے۔

چی گویرا

کیوبا میں فیڈل کاسترو اور چی گویرا نے امریکی اثر و رسوخ کے خلاف انقلاب برپا کیا۔ کاسترو کی قیادت میں کیوبا نے صنعتوں کو قومی تحویل میں لیا اور سماجی اصلاحات نافذ کیں، جبکہ چی گویرا عالمی سطح پر سامراج مخالف جدوجہد کی علامت بن گئے۔

بولیوارین دور شاویز سے مادورو تک

وینزویلا کے ہوگو شاویز نے بولیوارین انقلاب کے ذریعے تیل سمیت اسٹریٹجک شعبوں کو قومی کنٹرول میں لیا اور علاقائی یکجہتی کو فروغ دیا۔ ان کے بعد نیکولس مادورو نے شدید معاشی دباؤ، پابندیوں اور سیاسی عدم استحکام کے باوجود ریاستی خودمختاری کے بیانیے کو برقرار رکھا۔ حامیوں کے مطابق مادورو نے بیرونی مداخلت کے سامنے جھکنے سے انکار کر کے وینزویلا کی سیاسی خودمختاری کو بچائے رکھا۔

ہوگو شاویز مفاہمت اور آمریت: متنازع کردار

اس کے برعکس وہ رہنما جنہوں نے بیرونی طاقتوں سے مفاہمت کو ترجیح دی، تاریخ میں متنازع حیثیت اختیار کر گئے۔

نکاراگوا میں اناستاسیو سوموسا، کیوبا میں فلجینسیو باتیستا، ہیٹی میں ڈوالیے خاندان اور گوئٹے مالا میں ایسٹراڈا کابریرا اور جارجے اوبیکو نے امریکی مفادات کے تحفظ میں آمرانہ حکومتیں قائم کیں۔ ان ادوار میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں، بدعنوانی اور عوامی استحصال عام رہا۔

فلجینسیو باتیستا

پیرو میں البرتو فوجیموری نے امریکی حمایت سے خود ساختہ بغاوت کے ذریعے اقتدار مضبوط کیا، مگر ان کا دور جبری نس بندی، ڈیتھ اسکواڈز اور شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے داغدار رہا۔

جدید دور میں خوان گوائیدو کی مثال سامنے آئی، جنہوں نے امریکی حمایت سے خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دیا، مگر ملک کے اندر کوئی حقیقی اقتدار حاصل نہ کر سکے اور بالآخر سیاسی منظرنامے سے بے دخل ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

لاطینی امریکا کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ مزاحمت اور خودمختاری کا راستہ کٹھن ضرور ہوتا ہے، مگر یہی راستہ قوموں کو اجتماعی یادداشت میں عزت، وقار اور شناخت عطا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے والے حکمران وقتی اقتدار تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر تاریخ کے کٹہرے میں اکثر غدار یا آمر کے طور پر یاد رکھے جاتے ہیں۔ یہی کشمکش آج بھی اس خطے کی سیاست اور مستقبل کو شکل دے رہی ہے۔

بشکریہ: رشیا ٹو ڈے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا چے گویرا فلجینسیو باتیستا فیڈرکاسترو کیوبا لاطینی امریکا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا فیڈرکاسترو کیوبا لاطینی امریکا کی علامت بن گئے لاطینی امریکا نے امریکی کے خلاف کے بعد

پڑھیں:

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

 وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم