ضلع گھوٹکی کے اہل قلم کا ایک فکری و ادبی اجلاس کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-2-8
سکھر (نمائندہ جسارت) ضلع گھوٹکی کے معروف لکھاریوں اور اہلِ قلم کا ایک فکری و ادبی اجلاس۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو، ماجد حمید شیخ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق قومی پالیسی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا،اجلاس میں ضلع کے نامور لکھاریوں معروف کالم نگار اور مصنف اور سابقڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر سردار احمد تبسم گڈانی ،ایاز لطیف دایو، عبدالحئی بھٹو، الہوریو بوزدار، غضنفر بخاری، عبدالحئی بھٹو، ، محمد دین راجڑی، رئوف پارس دایو، زاہد بھٹو، وجیش کمار، جی ایم لاڑک اور عثمان سومرو نے شرکت کی۔ اجلاس کا ماحول فکری سنجیدگی اور تخلیقی مکالمے سے بھرپور رہا، جہاں قلم کی طاقت اور لفظ کے اثرات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ماجد حمید شیخ نے کہا کہ معاشرے میں امن، برداشت اور ہم آہنگی کے فروغ میں لکھاریوں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قلم کار اپنے افسانوں، مضامین اور تحریروں کے ذریعے نوجوان نسل کی سوچ اور شعور کی تشکیل کرتے ہیں، اسی لیے ان پر قومی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انتہاپسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خلاف اپنے قلم کو مؤثر ہتھیار بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادب اور فنونِ لطیفہ انسانی دل و دماغ پر گہرا اثر رکھتے ہیں، اور یہی اثر معاشرے کو نفرت اور تشدد کے اندھیروں سے نکال کر امن، رواداری اور بھائی چارے کی روشنی کی جانب لے جا سکتا ہے۔ لکھاریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے تخلیقی اظہار کے ذریعے محبت، برداشت اور قومی یکجہتی کا پیغام عام کریں تاکہ ایک پرامن اور مستحکم معاشرہ تشکیل پا سکے۔اجلاس کے اختتام پر تمام لکھاریوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ انتہاپسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خلاف اپنے قلم کے ذریعے شعور بیدار کرتے رہیں گے۔ شرکاء نے یہ تجویز بھی دی کہ نوجوانوں کی مثبت ذہنی نشونما کے لیے ضلع میں کھیلوں اور تعمیری سرگرمیوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں