پیٹرول کے نرخ میں کمی،پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی نہیں کرواسکی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-11-11
فیصل آباد(وقائع نگارخصوصی)جماعت اسلامی کے رہنمااورسابق یو سی ناظم وچیئرمین سی سی 28 گلستان کالونی ،ممبرامن کمیٹی میاںطاہر ایوب نے کہاہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں نمایاںکمی کے باجود ضلعی انتظامیہ پبلک انسپورٹ کے کرایوں میں کمی نہیں کرواسکی۔حکومت کی جانب پیٹرول اور ڈیزل سستا کیا گیا لیکن اس کے باوجود ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں کمی نہیں کی اور مسافروں سے پرانے کرائے ہی وصول کئے جا رہے ہیں۔ کرایوں میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے کئی جگہوں پر مسافروں اور ڈرائیورز کے درمیان بحث و مباحثہ ، لڑائی جھگڑے، گالی گلوچ دیکھنے کو مل رہا ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی نہ آنا متعلقہ اداروں کی نااہلی ہے۔ حکومت کی جانب سے ایندھن سستا ہونے کے باوجود کرایہ ناموں پر نظرثانی نہ ہونا حکومتی اداروں کی غفلت ہے۔ ٹرانسپورٹرز من مانی وصولیوں میں مصروف ہیں جبکہ نگرانی کے ذمہ دار ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب پیٹرول کی قیمتوں میں دو چار روپے کابھی اضافہ ہوتا ہے تواگلے روز ٹرانسپورٹرز کرایوں میں من مرضی کا اضافہ کر دیتے ہیں اور اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے تو ٹرانسپورٹرز اور رکشہ ڈرائیورز خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے جس سے غفلت ناقابلِ قبول ہے۔ انہوںنے وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب سے مطالبہ کیاہے کہ ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کو پابندکیا جائے کہ وہ کرایوںکاسرکاری نوٹیفکیشن جاری کروائیں اور اس پر سختی سے عمل درآمدبھی کروائیں اور خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرایوں میں کمی کی قیمتوں
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔