Jasarat News:
2026-06-03@02:30:49 GMT

میرا برانڈ پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایکسپو سینٹر کراچی میں پاکستان بزنس فورم کے تحت پاکستانی مصنوعات کے فروغ کے لیے سجائی گئی 2 روزہ نمائش ’’میرا برانڈ پاکستان‘‘ اتوار کے روز اختتام پذیر ہو گئی۔ نمائش میں 700 سے زائد برانڈز شریک تھے جہاں دیدہ زیب ملبوسات، عبایا، جیولری، ہربل اور آرگینک مصنوعات، گھریلو اشیاء، فوڈ اسٹالز سمیت متنوع اور معیاری اشیاء مناسب قیمتوں پر دستیاب تھیں۔ خواتین کے لیے خصوصی طور پر خدیجہ الکبریٰ بزنس حب بھی قائم کیا گیا تھا، نمائش میں خواتین کاروباری شخصیات اور گھریلو صنعت سے وابستہ ہنرمند خواتین نے اپنی تیار کردہ مصنوعات پیش کیں۔ نمائش کا افتتاح جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کیا، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ نمائش نہ صرف کاروباری سرگرمی تھی بلکہ یہ ملکی معیشت کی بحالی اور غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ عملی یکجہتی کی عملی تصویر بھی۔ نمائش میں ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل، فوڈ انڈسٹری اور گھریلو مصنوعات کے سیکڑوں اسٹالز لگائے گئے تھے۔ تاجر برادری کا کہنا تھا کہ ایسے ایونٹس چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور روپیہ مستحکم ہوتا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا برانڈ پاکستان کا آئیڈیا اسرائیل کے ظلم کی وجہ سے شروع ہوا، ہم چاہتے ہیں کہ مسلم ممالک بھی اپنی مصنوعات یہاں لیکر آئیں، پاکستان میں ایسی پراڈکٹس موجود ہیں جن کا معیار بہت اچھا ہے۔ میرا برانڈ پاکستان کے منتظمین کا کہنا تھا کہ 700 برانڈز کی شرکت خوش آئند ہے، پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی تک لے کر جائیں گے۔ واضح رہے کہ میرا برانڈ پاکستان کا یہ چوتھا پروگرام تھا جس کا بنیادی مقصد پاکستانی مصنوعات اور مقامی صنعت کی بھرپور حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ یہ ایونٹ پاکستان بزنس فورم کے زیر ِ اہتمام 2024 سے منعقد ہورہا ہے، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی پاکستانی کمپنیاں اور برانڈز حصہ لیتے ہیں۔ کراچی میں کامیاب نمائشوں کے بعد یہ ایونٹ لاہور میں بھی منعقد ہوچکا ہے، منتظمین کا عزم ہے کہ اس نوع کے ایونٹس اب اسلام آباد، فیصل آباد اور دیگر شہروں میں بھی رکھے جائیں گے۔ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے بعد پوری دنیا میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی جو مہم چلائی گئی ہے اس سے ایک خلا پیدا ہوا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خلا مقامی طور پر تیار کی گئی مصنوعات پورا کرسکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے کہ مقامی صنعتوں کو فروغ دیا جائے، پاکستان بزنس فورم نے مقامی صنعتوں کے فروغ کے لیے جو قدم اٹھایا ہے وہ قابل ِ قدر بھی ہے اور لائق ِ تحسین بھی۔ میرا برانڈ پاکستان ملکی معیشت کی ترقی اور بحالی میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔ آج ملک اقتصادی طور پر جس صورتحال سے دوچار ہے اس میں ناگزیر ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر خود مختاری کی راہ پر گامزن کیا جائے اور میڈ ان پاکستان صنعتوں کو عالمی منڈی تک پہنچایا جائے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ مقامی مصنوعات عالمی برانڈ کا مقابلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ چھوٹے دائرے میں جو کام شروع کیا گیا ہے سرکاری سطح پر نہ صرف یہ کہ اس کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی جائے بلکہ مائیکرو فنانسنگ کے ذریعے چھوٹے تاجروں کو آسان اقساط پر رقم فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ کرسکیں۔ میرا برانڈ پاکستان جیسے اقدامات کی اگر حکومتی سطح پر منظم حکمت ِ عملی کے تحت حوصلہ افزائی کی جائے تو اس سے نہ صرف یہ کہ روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا بلکہ درآمدات پر انحصار کم اور برآمدات میں خوشگوار اضافہ ممکن ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں ملکی معیشت کو استحکام ملے گا اور ملک خود انحصاری کی راہ پر قدم آگے بڑھا سکے گا۔

 

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میرا برانڈ پاکستان کے لیے

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم