کوئی بامعنی مذاکرات کرنا چاہے گا تو عمران خان سے مشاورت کریں گے، پی ٹی آئی کا حکومتی پیشکش پر جواب
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ اگر کوئی بامعنی بات کرنا چاہے گا تو اس حوالے سے عمران خان سے مشاورت کی جائے گی کہ آگے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور اسی راستے پر آگے بڑھے گی، تاہم اگر بات ہی نہ سنی جائے تو مذاکرات کے نام پر بیٹھ کر بسکٹ کھانے کا کوئی مقصد نہیں بنتا۔
مزید پڑھیں: صدر زرداری، نواز شریف اور وزیراعظم کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جائے، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی تجویز
انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے نہ تو مذاکرات کا ماحول نظر آتا ہے اور نہ ہی نیت دکھائی دیتی ہے، جبکہ مذاکرات کا مینڈیٹ محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس کے پاس ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیاکہ عمران خان سے وکلا، ان کی بہنوں اور سیاسی رہنماؤں کی آزادانہ ملاقات ہونی چاہیے۔
سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ ایک بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی انتہا پسند ہے اور بات چیت نہیں چاہتی، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی مذاکراتی پیشکش میں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ ممکن نہیں کہ عمران خان کو جیل میں رکھا جائے اور پھر کہا جائے کہ مذاکرات کی میز پر بسکٹ کھا کر بات چیت کریں۔
قبائلی علاقوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ قبائلی علاقوں کی بہتری کے لیے جو رقم وفاق کو ملنی تھی وہ خیبرپختونخوا حکومت کو نہیں دی گئی، حالانکہ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد قبائلی اضلاع صوبے کا حصہ بن چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اور پاکستان کے مفاد میں ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔
انہوں نے کہا کہ وہ کسی پر انگلی نہیں اٹھانا چاہتے، سیاسی جماعتوں اور اداروں کو مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے ہوں گے۔
مزید پڑھیں: اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے حکومتی حکمت عملی تیار، وزیراعظم نے گرین سگنل دیدیا
سلمان اکرم راجا کے مطابق قبائلی اضلاع سے روزانہ اطلاعات آ رہی ہیں اور یہ ایک حساس معاملہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پشاور کے جرگے میں ن لیگ، پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتوں نے متفقہ مؤقف اپنایا، میں خود وہاں موجود تھا۔
سلمان اکرم راجا نے کہاکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ایک دہشتگرد جماعت ہے جبکہ افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کی سرپرستی کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پی ٹی آئی حکومتی پیشکش مذاکرات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی حکومتی پیشکش مذاکرات وی نیوز سلمان اکرم راجا انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔