سلمان اکرم کا بیرسٹر گوہر سے متعلق بیان، پی ٹی آئی میں اختلافات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بیرسٹر گوہر کے بیان کے بعد پی ٹی آئی میں اختلافات سامنے آگئے، پی ٹی آئی کے واٹس ایپ گروپس میں سلمان اکرم راجہ پر تنقید کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اراکین نے الزام عائد کیا ہے کہ سلمان اکرم راجہ نے پارٹی کو اس نہج پر پہنچایا وہ پارٹی میں گروپنگ کر رہے ہیں، نئی سیاسی کمیٹی میں سینٹرز کی نمائندگی نہیں ہے، علی ظفر کی جگہ سینیٹر فوزیہ ارشد کو نمائندگی دی گئی، ہم اس پولیٹیکل کمیٹی کو مسترد کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سینیٹرز نے کہا ہے کہ بانی چئیرمین عمران خان نے بیرسٹر گوہر کو چئیرمین لگایا ہے، سلمان اکرم راجہ کو یہ بیان نہیں دینا چاہیے تھا، بیرسٹر گوہر کے ساتھ خان کی فیملی کے سامنے نامناسب رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اراکین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی کور کیمٹی کی میٹنگ نہیں و رہی، پانچ ماہ پہلے کور کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تھی، نئی سیاسی کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں بھی محمود خان اچکزئی ، بیرسٹر گوہر سمیت متعدد اراکین نے شرکت نہیں کی تھی، اس کے بعد سیاسی کمیٹی کا اجلاس بھی نہیں ہوا۔
ذرائع کے مطابق اراکین نے کہا کہ پارٹی کے سینئیر رہنماؤں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، بیرسٹر گوہر کی جانب سے ہمیں چپ رہنے کی ہدایت ہے، سلمان اکرم راجہ بانی چئیرمین کے ٹویٹس کو بھی ری ٹویٹ نہیں کرتے، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر بھی سیکرٹری جنرل نے رد عمل دینے سے انکار کر دیا تھا اس کا رد عمل بھی سہیل آفریدی، شیخ وقاص اکرم، شفیع جان اور مشعال یوسفزئی کو دینا پڑا، سلمان اکرام راجہ اپنے حساب سے پارٹی چلا رہے ہیں۔
دوسری جانب پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے ٹویٹ میں اپنا موقف دیا ہے کہا ہے کہ ہر پارٹی میں شخصی اور گروہی اختلافات ہوتے ہیں، مجھے جو ذمہ داری عمران خان صاحب نے دی ہے وہ تقاضا کرتی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو پردہ رکھو، اپنی ذات پر حملوں کا جواب کسی کی پارٹی کے خلاف سازشوں کو ظاہر کر کے نہیں دے سکتا تاہم سازشیوں کو ناکام کرنا ضروری ہے۔
سلمان اکرم راجا نے ٹویٹ میں کہا کہ سینیٹر فوزیہ ارشد کو اسلام آباد کے پارلیمانی بورڈ برائے بلدیات میں شامل کرنے کا مقصد مختلف گروپوں کے درمیان ایک سینئرشخصیت کو شامل کرنا تھا، فوزیہ ارشد پارٹی سے دہائیوں سے منسلک ہیں اور اسلام آباد سے سینیٹ کیلئے عمران خان صاحب کا انتخاب ہیں، کچھ دوست عمران خان صاحب کے حکم پر سیاسی کمیٹی کو محدود کرنے پر ناراض ہوئے، بعض نے اعلان کیا کہ اب ہماری آپ سے جنگ ہے۔ سیاسی کمیٹی کو محدود کرنا ہرگز میرا فیصلہ نہ تھا۔
انہوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ نئی تشکیل سے پہلے سینئر ممبران سے مشورہ کر کے ایک اصول اپنایا، صرف کلیدی عہدے داروں کو شامل کیا جائے، میرا ضمیر مکمل دور پر مطمئن ہے کہ کوئی ایک فیصلہ بھی کسی ذاتی یا گروہی مفاد کی خاطر نہیں کیا، پارٹی میں میرا کوئی گروپ نہیں، میرے خلاف پارٹی میں ایک ناکام محاذ آرائی میری تقرری کے پہلے دن سے پارٹی کے بھگوڑوں اور پارٹی میں ان کے چیلوں نے برپا کرنے کی کوشش کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجہ بیرسٹر گوہر سیاسی کمیٹی پارٹی میں پارٹی کے
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز