بی آئی ایس پی ، 1کروڑ سے زائد مستحقین کی مالی معاونت کی جا رہی ہے، عامر علی احمد
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد(طارق سمیر) 53ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے 136 زیر تربیت افسران کا بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز کا دورہ سیکریٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد کی جانب سے سماجی تحفظ میں تاریخی اصلاحات، کیش لیس ادائیگیوں اور فلیگ شپ پروگرامز پر بریفنگ سول سروسز اکیڈمی لاہور کے 53ویں کامن ٹریننگ پروگرام (CTP) سے تعلق رکھنے والے 136 زیر تربیت افسران کے وفد نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا تاکہ ادارے کے وژن، مینڈیٹ اور سماجی تحفظ کے نمایاں پروگرامز سے تفصیلی آگاہی حاصل کی جا سکے۔سیکریٹری بی آئی ایس پی، عامر علی احمد نے وفد کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کے کیش لیس معیشت کے وژن کے تحت پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک کروڑ سے زائد خواتین مستحقین کے لیے سوشل پروٹیکشن والٹس فعال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 56 لاکھ 70 ہزار مفت سمز ملک بھر میں تقسیم کی جا چکی ہیں، جو شفاف، محفوظ اور آسان ادائیگیوں کو یقینی بنانے کے لیے ملک کی سب سے بڑی مہم ہے۔ سیکریٹری بی آئی ایس پی نے بی آئی ایس پی کے بنیادی پروگرامز پر جامع بریفنگ دی، جن میں بینظیر کفالت، بینظیر تعلیمی وظائف، بینظیر نشوونما اور نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (این ایس ای آر) شامل ہیں، جسے انہوں نے بی آئی ایس پی کا کلیدی پروگرام اور باعثِ فخر اثاثہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بینظیر کفالت پروگرام کے تحت ایک کروڑ سے زائد مستحقین کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بینظیر تعلیمی وظائف کے تحت ایک کروڑ 24 لاکھ بچوں کا اندراج مکمل ہو چکا ہے تاکہ تعلیم کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بینظیر نشوونما پروگرام کے باعث بچوں میں قد کی کمی (اسٹنٹنگ) میں 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سیکریٹری بی ا ئی ایس پی عامر علی احمد پروگرام کے انہوں نے بتایا کہ کے تحت کے لیے
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔