غزہ جنگ بندی کو بچانے کی حماس کی آخری کوشش، اسرائیل کو بھاگنے نہیں دیں گے
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے ریڈ کراس کے تعاون سے غزہ شہر کے مشرقی علاقے زیتون میں آخری باقی اسرائیلی یرغمالی کی لاش کی تلاش دوبارہ شروع کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ تلاش اسرائیلی پولیس کے ماسٹر سارجنٹ ران گوِلی کی لاش کے لیے کی جا رہی ہے، جو حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران کِبٹز الومیم کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے۔
فلسطینی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی پولیس اہلکار کی لاش کو حماس کے جنگجو اپنے ہمراہ غزہ لے آئے تھے اور لاش کو مشرقی علاقے میں رکھا گیا تھا۔
بعد ازاں اسرائیلی بمباری کے باعث غزہ کا مشرقی علاقہ مکمل طور پر کھنڈر بن گیا جس کے باعث لاش کہیں گم ہوگئی اور تلاش کی پہلی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔
لاش کی تلاش کے دوبارہ آغاز کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں حماس کے مسلح افراد، ریڈ کراس کی گاڑیاں اور بلڈوزرز کو علاقے میں کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم اس کارروائی میں فلسطینی اسلامی جہاد (PIJ) کے عسکری ونگ سرایا القدس کی شمولیت نظر نہیں آ رہی حالانکہ ابتدا میں لاش انہی کے قبضے میں تھی۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت واضح طور پر اعلان کر چکی ہے کہ جب تک ران گوِلی کی لاش واپس نہیں کی جاتی، غزہ جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے پر پیش رفت نہیں کی جائے گی۔
یروشلم میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر بھی ان کی لاش کی واپسی کے لیے مظاہرے کیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
حماس نے اسرائیل پر اپنے 7 اکتوبر 2023 کو کیے گئے حملے میں 251 اسرائیلی فوجیوں اور باشندوں کو یرغمال بناکر غزہ لے آئے تھے۔
جن میں سے تقریباً تمام ہی زندہ یرغمالیوں کو واپس اسرائیل بھیج دیا گیا جس کے بدلے میں سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہائی نصیب ہوئی۔
علاوہ ازیں حماس کے پاس غزہ میں جتنے اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں موجود تھیں انھیں بھی واپس کردیا گیا۔ بس ایک لاش باقی ہے جس کی تلاش جاری ہے۔
اس کے بدلے میں اسرائیل نے بھی حراست میں بہیمانہ تشدد سے جاں بحق ہونے والے فلسطینی قیدیوں کی لاشیں واپس کی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حماس کے کی لاش لاش کی
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم