گلگت بلتستان کی نگران حکومت و انتخابات کے حوالے سے سینیئر صحافی منظر شگری کا انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اپنے انٹرویو میں منظر شگری کا کہنا تھا کہ نگران کابینہ میں نیوٹرل اور کسی حد تک پروفیشنل شخصیات کو لیا گیا ہے۔ بظاہر کابینہ غیر جانبدار ہے، تاہم الیکشن میں متعلقہ حلقوں میں ان کا اثر ضرور رہے گا۔ سب سے دلچسپ صورتحال دیامر میں ہوگی، کیونکہ سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان اپنے دو بندوں کو کابینہ میں شامل کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ متعلقہ فائیلیںگلگت بلتستان میں نگران حکومت کا قیام عمل میں آچکا ہے، نگران کابینہ کے وزراء نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے، یوں جی بی میں نگران سیٹ اپ مکمل ہوچکا ہے۔ کابینہ میں 12 وزیر اور 2 مشیر لیے گئے ہیں۔ ان وزراء کا تعلق کہاں سے ہے۔؟ کس حلقے میں کس وزیر کا حلقہ اثر زیادہ ہے۔؟ نگران حکومت جی بی انتخابات پر کس حد تک اثر انداز ہوگی۔؟ ان تمام سوالوں پر اسلام ٹائمز نے گلگت بلتستان کے سینیئر صحافی منظر شگری سے انٹرویو کیا ہے۔ منظر شگری گذشتہ تین دہائیوں سے صحافت سے منسلک ہیں اور جی بی کے امور پر انکی اچھی گرفت ہے۔ اپنے انٹرویو میں منظر شگری کا کہنا تھا کہ نگران کابینہ میں نیوٹرل اور کسی حد تک پروفیشنل شخصیات کو لیا گیا ہے۔ بظاہر کابینہ غیر جانبدار ہے، تاہم الیکشن میں متعلقہ حلقوں میں انکا اثر ضرور رہے گا۔ سب سے دلچسپ صورتحال دیامر میں ہوگی، کیونکہ سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان اپنے دو بندوں کو کابینہ میں شامل کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کابینہ میں
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔