خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کی اتحادی، آپریشن کا فیصلہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کی اتحادی بنی ہوئی ہے، دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا اگر فیصلہ ہوا تو یہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں ںے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا حصہ بننے سے گریز کررہی ہے، اگر یہ فوج کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو نتائج اچھے ہوں گے۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور چین یک زبان، کابل کو کیا اہم پیشکش کی؟
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی دہشتگردوں کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتی اور حکومت کے مزے بھی لینا چاہتی ہے، یہ لوگ شہدا کے ساتھ یکجہتی اور جنازوں میں شریک نہیں ہوتے۔
خواجہ آصف نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت کو دہشتگردوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے، جب ملک اور اس کی افواج خطرے میں ہوں تو پھر سیاسی مصلحتوں کا شکار نہیں ہونا پڑتا۔
وزیر دفاع نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں پیغام بالکل واضح تھا، ان کی جانب سے جو باتیں کی گئیں وہ حقائق پر مبنی تھیں۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے یہ کہنا کہ ہم آپریشن نہیں ہونے دیں گے یہ دہشتگردوں کی حمایت کرنے کے مترادف ہے۔
وزیر دفاع نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یہ خود بھی مسلح جدوجہد کررہے ہیں، اور کئی بار دارالحکومت پر حملہ کیا، یہ ملک ہم سب کا ہے اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے ماضی میں دہشتگردوں سے براہِ راست مذاکرات کی کوشش کی جو کامیاب نہیں ہوئی، جبکہ امن قائم کرنے کے لیے ہم نے براہ راست کابل حکومت سے بھی بات کی۔
پی ٹی آئی سے مذاکرات سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مذاکرات ضرور ہونے چاہییں، لیکن پی ٹی آئی محمود اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کے ذریعے بات چیت چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ
عمران خان کو سیاست سے مائنس کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ مجھے اس کا علم نہیں۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ آئین میں تو اس کی گنجائش موجود ہے لیکن میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پی ٹی آئی مذاکرات خواجہ آصف دہشتگردی آپریشن وزیر دفاع وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی مذاکرات خواجہ ا صف دہشتگردی ا پریشن وزیر دفاع وی نیوز خیبرپختونخوا حکومت انہوں نے کہاکہ خواجہ ا صف پی ٹی ا ئی وزیر دفاع
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔