Express News:
2026-07-24@01:09:33 GMT

بنگلہ دیش ایک کیس اسٹڈی

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آج بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات بھی ویسے ہی ہیں جیسے پاکستان اور بھارت کے ہیں۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تو کشمیر اور پانی جیسے روایتی تنازعات موجود ہیں لیکن بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان کشیدگی تو ایسے مسائل کی وجہ سے نہیں ہے۔

سانحہ مشرقی پاکستان اور بنگلہ دیش کے بننے کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تو روائتی دوستی کے خواب دیکھے گئے تھے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ دونوں میں دوستی کا آج وجود نظر نہیں آرہا۔ بھارت کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔

بنگلہ دیش بھارت کے مقابلے میں ایک کمزور ملک نظر آرہا ہے۔ میں دفاعی طور پر بات کر رہا ہوں، اس کمزور دفاع کی وجہ سے ہی بنگلہ دیش بھارتی تسلط میں رہا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان سے آزادی حاصل کر کے بنگالی بھارت کی غلامی میں چلے گئے۔

وہاں بھارت کا معاشی تسلط نظر آتا ہے۔ آج عام بنگالی خود کو بھارت کے تسلط میں محسوس کر رہا ہے۔ اس لیے بنگلہ دیش میں بھارت کے لیے نفرت بڑھ رہی ہے، عام بنگالی بھارت کے خلاف نظر آرہا ہے۔

شائد عام پاکستانی بھارت کے اس قدر خلاف نہیں ہے لیکن عام بنگالی میں بھارت کے لیے زیادہ نفرت نظر آرہی ہے۔ لیکن آج بنگلہ دیش کو بھارت کے سامنے اپنی بقا خطرے میں نظر آرہی ہے۔

چند سال پہلے تک دوست ہمیں بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کی مثالیں دیتے تھے۔ لیکن آج میرا ان دوستوں سے سوال ہے کہ کہاں ہے وہ معاشی ترقی جس کی آپ ہمیں کہانیاں سناتے تھے، بھارت سب کھا گیا۔

بھارت کا سرمایہ کار سب کھا گیا اور بنگلہ دیش کنگال نظر آرہا ہے۔ وہاں کی معیشت بھی کمزور نظر آرہی ہے اور وہاں کا دفاع بھی کمزور نظر آرہا ہے۔ بنگلہ دیش دونوں محاذوں پر کمزور ہے۔

بھارت نے جان بوجھ کر بنگلہ دیش کے دفاع کو کمزور رکھا ہے۔ تاکہ بنگلہ دیش اس کے تسلط میں رہے۔ آج کمزور دفاع بنگلہ دیش کے لیے ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

حال ہی میں بنگلہ دیش کے فضائیہ کے سربراہ پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ وہ پاکستان سے جے ایف 17تھنڈر طیارے خریدنا چاہتے ہیں۔ آج کل تو سب گوگل میں ہے۔

آپ بنگلہ دیش کی فضائیہ کے جنگی جہازوں کی تفصیلات گوگل کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان کے پاس ایک بھی جدید جہاز نہیں ہے۔ وہ زمانہ قدیم کے جہاز استعمال کر رہے ہیں جن کے آج کی فضائی جنگ میں کوئی کردار نہیں۔

وہ بھارت کا ایک منٹ کے لیے بھی فضائی جنگ میں مقابلہ نہیں کر سکتے۔ کئی دہائیوں سے بنگلہ دیش کی فضائیہ نے نہ تو کوئی جہاز خریدا ہے اور نہ ہی کوئی جہاز بنانے کی کوشش کی ہے۔ آج بنگلہ دیش کی فضائیہ ایک مفلوج فضائیہ ہے۔

پاکستان کو بنگلہ دیش کی دفاعی طور پر مدد کرنی چاہیے لیکن آپ دیکھیں کہ دفاعی طور پر ایک کمزور ملک کی بقا آج کس قدر خطرے میں رہتی ہے۔ اس کی معاشی آزادی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ بنگلہ دیش اس کی بہترین مثال ہے۔

حالانکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے بھی کوئی اچھے تعلقات نہیں رہے ہیں۔ لیکن میں پھر بھی سمجھتا ہوں کہ مشکل کے اس وقت میں پاکستان کو بنگلہ دیش کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے۔

ہمیں آج بھی بنگلہ دیش کو اپنا حصہ ہی سمجھنا چاہیے۔ اس کے دفاع کو اپنا دفاع ہی سمجھنا چاہیے۔ یہ ماضی کی غلطیوں کو دور کرنے کا بہترین وقت ہے۔

بنگلہ دیش کو صرف فضائیہ میں ہی پاکستان کی مدد نہیں چاہیے۔ بری فوج بھی بھارت کے مقابلے میں کمزور ہے۔ بنگلہ دیش کوئی میزائیل نہیں بناتا، کوئی ڈرون نہیں بناتا، جدید اسلحہ نہیں ہے، فوج بھی کمزور ہے۔

آج میزائل اور ڈرونز کے بغیر فوجی لڑائی کا کوئی تصور نہیں۔ بنگلہ دیش کے پاس ایسا کچھ نہیں ہے۔پرانے ٹینک ہیں، آج کے جدید ٹینک بھی نہیں ہیں۔ اس لیے بنگلہ دیش کی فوج بھی بھارت کے مقابلے میں بہت کمزور ہے۔

بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان بارڈر کے حوالے سے تنازعات ہیں۔ لیکن کمزور فوج کی وجہ سے بنگلہ دیش بھارت کی ہر بات ماننے پر مجبور ہے۔ یہ ساری صورتحال عام پاکستانی کے لیے ایک بہترین کیس اسٹڈی ہے۔

وہ دوست جو پاکستان کی فوجی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہیں، وہ دوست جو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے دفاع پر غیر ضروری اخراجات کیے ہیں، وہ جو پاکستان کے ایٹمی طاقت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ان سے آج بنگلہ دیش کی صورتحال پر سوال تو بنتا ہے۔

کیا بنگلہ دیش ایک پر امن بقا کے لیے بھارت کی مرضی کی حکومت کا محتاج ہے۔ اگر بنگلہ دیش کے عوام بھارت کی مرضی کی حکومت کو قبول نہ کریں تو بنگلہ دیش کی بقا مشکل ہو جائے گی۔ بھارت کا معاشی تسلط قبول نہ کریں تو بقا خطرے میںہو گی۔

پاکستان کی بقا محفوظ ہے، ہم نے بھارت کو مئی میں شاندار شکست دی ہے، جس کی وجہ سے دنیا پاکستان کو ایک مضبوط ملک سمجھتی ہے۔ دنیا ہماری دفاعی طاقت سے مرعوب ہے۔بنگلہ دیش پاکستان کی دفاعی طاقت کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

وہ بنگلہ دیش کا بھی پاکستان جیسا دفاع چاہتے ہیں لیکن ان کو بھی یہ سمجھ ہے کہ یہ سب ایک دن میں ممکن نہیں ہوا ہے۔ پاکستان کے عوام نے بھوک برداشت کی ہے اور دفاع مضبوط کیا ہے۔ ہم نے دفاع کو خوشحالی پر بھی مقدم رکھا ہے۔

آج ثابت ہو رہا ہے کہ اگر دفاع مضبوط نہیں تو مضبوط معیشت بھی کمزور بن جاتی ہے، خوشحالی بھی چلی جاتی ہے۔ یہ دنیا طاقتور کی ہے۔ یہاں اب جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول چلتا ہے اور اگر آپ کے پاس اپنی لاٹھی نہیں تو آپ غلام ہیں۔

وینزویلا کی مثال سامنے ہے، یوکرین کی مثال سامنے ہے، عربوں کی مثال سامنے ہے، گرین لینڈ کی مثال سامنے ہے۔ آج ڈنمارک کے خود مختار علاقے گرین لینڈ کی بقا بھی مشکل میں نظر آرہی ہے۔

دنیا میں کتنے ملک کمزور دفاع کی وجہ سے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ حالانکہ کچھ معاشی طور پر مستحکم بھی ہیں۔ کیا پاکستان کو بنگلہ دیش کے ساتھ سعودی عرب جیسا کوئی دفاعی معاہدہ کرنا چاہیے۔

میں سمجھتا ہوں نہیں۔ بنگلہ دیش جہاں دفاعی اور معاشی طور پر کمزور ہے وہاں شدید سیاسی عدم استحکام کا بھی شکار ہے۔ وہاں ابھی کوئی مستقل فیصلے ممکن نہیں۔ دفاعی معاہدے مستقل نوعیت کے ہوتے ہیں۔

کل کوئی حکومت آئے اور ختم کر دے۔ اس لیے جس قدر مدد ہو سکتی ہے کرنی چاہیے۔ حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ دیکھنا چاہیے بنگلہ دیش کے لوگ اور وہاں کی حکومت کیسے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ اس لیے کوئی جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ پہلے بنگلہ دیش کے عوام کا ذہن بھی سامنے آجائے۔ پھر دیکھتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش اور بھارت کے اور بھارت کے درمیان کی مثال سامنے ہے اور بنگلہ دیش ا ج بنگلہ دیش بنگلہ دیش کو بنگلہ دیش کی بنگلہ دیش کے نظر ا رہا ہے نظر ا رہی ہے پاکستان اور پاکستان کی کرنی چاہیے پاکستان کو پاکستان ا بھی کمزور کی وجہ سے کمزور ہے بھارت کا بھارت کی نہیں ہے لیکن ا ہے اور کی بقا اس لیے کے لیے

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف