Express News:
2026-06-02@22:28:38 GMT

بنگلہ دیش ایک کیس اسٹڈی

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آج بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات بھی ویسے ہی ہیں جیسے پاکستان اور بھارت کے ہیں۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تو کشمیر اور پانی جیسے روایتی تنازعات موجود ہیں لیکن بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان کشیدگی تو ایسے مسائل کی وجہ سے نہیں ہے۔

سانحہ مشرقی پاکستان اور بنگلہ دیش کے بننے کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تو روائتی دوستی کے خواب دیکھے گئے تھے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ دونوں میں دوستی کا آج وجود نظر نہیں آرہا۔ بھارت کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔

بنگلہ دیش بھارت کے مقابلے میں ایک کمزور ملک نظر آرہا ہے۔ میں دفاعی طور پر بات کر رہا ہوں، اس کمزور دفاع کی وجہ سے ہی بنگلہ دیش بھارتی تسلط میں رہا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان سے آزادی حاصل کر کے بنگالی بھارت کی غلامی میں چلے گئے۔

وہاں بھارت کا معاشی تسلط نظر آتا ہے۔ آج عام بنگالی خود کو بھارت کے تسلط میں محسوس کر رہا ہے۔ اس لیے بنگلہ دیش میں بھارت کے لیے نفرت بڑھ رہی ہے، عام بنگالی بھارت کے خلاف نظر آرہا ہے۔

شائد عام پاکستانی بھارت کے اس قدر خلاف نہیں ہے لیکن عام بنگالی میں بھارت کے لیے زیادہ نفرت نظر آرہی ہے۔ لیکن آج بنگلہ دیش کو بھارت کے سامنے اپنی بقا خطرے میں نظر آرہی ہے۔

چند سال پہلے تک دوست ہمیں بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کی مثالیں دیتے تھے۔ لیکن آج میرا ان دوستوں سے سوال ہے کہ کہاں ہے وہ معاشی ترقی جس کی آپ ہمیں کہانیاں سناتے تھے، بھارت سب کھا گیا۔

بھارت کا سرمایہ کار سب کھا گیا اور بنگلہ دیش کنگال نظر آرہا ہے۔ وہاں کی معیشت بھی کمزور نظر آرہی ہے اور وہاں کا دفاع بھی کمزور نظر آرہا ہے۔ بنگلہ دیش دونوں محاذوں پر کمزور ہے۔

بھارت نے جان بوجھ کر بنگلہ دیش کے دفاع کو کمزور رکھا ہے۔ تاکہ بنگلہ دیش اس کے تسلط میں رہے۔ آج کمزور دفاع بنگلہ دیش کے لیے ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

حال ہی میں بنگلہ دیش کے فضائیہ کے سربراہ پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ وہ پاکستان سے جے ایف 17تھنڈر طیارے خریدنا چاہتے ہیں۔ آج کل تو سب گوگل میں ہے۔

آپ بنگلہ دیش کی فضائیہ کے جنگی جہازوں کی تفصیلات گوگل کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان کے پاس ایک بھی جدید جہاز نہیں ہے۔ وہ زمانہ قدیم کے جہاز استعمال کر رہے ہیں جن کے آج کی فضائی جنگ میں کوئی کردار نہیں۔

وہ بھارت کا ایک منٹ کے لیے بھی فضائی جنگ میں مقابلہ نہیں کر سکتے۔ کئی دہائیوں سے بنگلہ دیش کی فضائیہ نے نہ تو کوئی جہاز خریدا ہے اور نہ ہی کوئی جہاز بنانے کی کوشش کی ہے۔ آج بنگلہ دیش کی فضائیہ ایک مفلوج فضائیہ ہے۔

پاکستان کو بنگلہ دیش کی دفاعی طور پر مدد کرنی چاہیے لیکن آپ دیکھیں کہ دفاعی طور پر ایک کمزور ملک کی بقا آج کس قدر خطرے میں رہتی ہے۔ اس کی معاشی آزادی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ بنگلہ دیش اس کی بہترین مثال ہے۔

حالانکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے بھی کوئی اچھے تعلقات نہیں رہے ہیں۔ لیکن میں پھر بھی سمجھتا ہوں کہ مشکل کے اس وقت میں پاکستان کو بنگلہ دیش کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے۔

ہمیں آج بھی بنگلہ دیش کو اپنا حصہ ہی سمجھنا چاہیے۔ اس کے دفاع کو اپنا دفاع ہی سمجھنا چاہیے۔ یہ ماضی کی غلطیوں کو دور کرنے کا بہترین وقت ہے۔

بنگلہ دیش کو صرف فضائیہ میں ہی پاکستان کی مدد نہیں چاہیے۔ بری فوج بھی بھارت کے مقابلے میں کمزور ہے۔ بنگلہ دیش کوئی میزائیل نہیں بناتا، کوئی ڈرون نہیں بناتا، جدید اسلحہ نہیں ہے، فوج بھی کمزور ہے۔

آج میزائل اور ڈرونز کے بغیر فوجی لڑائی کا کوئی تصور نہیں۔ بنگلہ دیش کے پاس ایسا کچھ نہیں ہے۔پرانے ٹینک ہیں، آج کے جدید ٹینک بھی نہیں ہیں۔ اس لیے بنگلہ دیش کی فوج بھی بھارت کے مقابلے میں بہت کمزور ہے۔

بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان بارڈر کے حوالے سے تنازعات ہیں۔ لیکن کمزور فوج کی وجہ سے بنگلہ دیش بھارت کی ہر بات ماننے پر مجبور ہے۔ یہ ساری صورتحال عام پاکستانی کے لیے ایک بہترین کیس اسٹڈی ہے۔

وہ دوست جو پاکستان کی فوجی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہیں، وہ دوست جو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے دفاع پر غیر ضروری اخراجات کیے ہیں، وہ جو پاکستان کے ایٹمی طاقت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ان سے آج بنگلہ دیش کی صورتحال پر سوال تو بنتا ہے۔

کیا بنگلہ دیش ایک پر امن بقا کے لیے بھارت کی مرضی کی حکومت کا محتاج ہے۔ اگر بنگلہ دیش کے عوام بھارت کی مرضی کی حکومت کو قبول نہ کریں تو بنگلہ دیش کی بقا مشکل ہو جائے گی۔ بھارت کا معاشی تسلط قبول نہ کریں تو بقا خطرے میںہو گی۔

پاکستان کی بقا محفوظ ہے، ہم نے بھارت کو مئی میں شاندار شکست دی ہے، جس کی وجہ سے دنیا پاکستان کو ایک مضبوط ملک سمجھتی ہے۔ دنیا ہماری دفاعی طاقت سے مرعوب ہے۔بنگلہ دیش پاکستان کی دفاعی طاقت کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

وہ بنگلہ دیش کا بھی پاکستان جیسا دفاع چاہتے ہیں لیکن ان کو بھی یہ سمجھ ہے کہ یہ سب ایک دن میں ممکن نہیں ہوا ہے۔ پاکستان کے عوام نے بھوک برداشت کی ہے اور دفاع مضبوط کیا ہے۔ ہم نے دفاع کو خوشحالی پر بھی مقدم رکھا ہے۔

آج ثابت ہو رہا ہے کہ اگر دفاع مضبوط نہیں تو مضبوط معیشت بھی کمزور بن جاتی ہے، خوشحالی بھی چلی جاتی ہے۔ یہ دنیا طاقتور کی ہے۔ یہاں اب جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول چلتا ہے اور اگر آپ کے پاس اپنی لاٹھی نہیں تو آپ غلام ہیں۔

وینزویلا کی مثال سامنے ہے، یوکرین کی مثال سامنے ہے، عربوں کی مثال سامنے ہے، گرین لینڈ کی مثال سامنے ہے۔ آج ڈنمارک کے خود مختار علاقے گرین لینڈ کی بقا بھی مشکل میں نظر آرہی ہے۔

دنیا میں کتنے ملک کمزور دفاع کی وجہ سے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ حالانکہ کچھ معاشی طور پر مستحکم بھی ہیں۔ کیا پاکستان کو بنگلہ دیش کے ساتھ سعودی عرب جیسا کوئی دفاعی معاہدہ کرنا چاہیے۔

میں سمجھتا ہوں نہیں۔ بنگلہ دیش جہاں دفاعی اور معاشی طور پر کمزور ہے وہاں شدید سیاسی عدم استحکام کا بھی شکار ہے۔ وہاں ابھی کوئی مستقل فیصلے ممکن نہیں۔ دفاعی معاہدے مستقل نوعیت کے ہوتے ہیں۔

کل کوئی حکومت آئے اور ختم کر دے۔ اس لیے جس قدر مدد ہو سکتی ہے کرنی چاہیے۔ حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ دیکھنا چاہیے بنگلہ دیش کے لوگ اور وہاں کی حکومت کیسے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ اس لیے کوئی جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ پہلے بنگلہ دیش کے عوام کا ذہن بھی سامنے آجائے۔ پھر دیکھتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش اور بھارت کے اور بھارت کے درمیان کی مثال سامنے ہے اور بنگلہ دیش ا ج بنگلہ دیش بنگلہ دیش کو بنگلہ دیش کی بنگلہ دیش کے نظر ا رہا ہے نظر ا رہی ہے پاکستان اور پاکستان کی کرنی چاہیے پاکستان کو پاکستان ا بھی کمزور کی وجہ سے کمزور ہے بھارت کا بھارت کی نہیں ہے لیکن ا ہے اور کی بقا اس لیے کے لیے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی