Jasarat News:
2026-07-24@01:39:16 GMT

اے وی ایل سی کا پولیس مقابلہ، دو زخمی ملزمان گرفتار

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی( اسٹاف رپورٹر) اورنگی ٹاؤن میں اے وی ایل سی اور کار لفٹر ملزمان کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں 2 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار ہو گئے جبکہ گینگ کا سرغنہ فرار ہوگیا۔گرفتار ملزمان کی شناخت اے صف منور ولد محمد منور اور غلام مرتضیٰ ولد اشرف کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ان کے قبضے سے سرقہ شدہ کار نمبر 362۔AJU- برآمد کی گئی، جو تھانہ شاہراہ نور جہاں میں درج مقدمہ نمبر 09/2026 کا شکار تھی۔ ساتھ ہی ملزمان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔فرار ہونے والے مرکزی ملزم اسماعیل چانڈیو ولد علی سردار اس گینگ کا سرغنہ ہے، جو چوری شدہ گاڑیوں کو اپنے قبضے میں لے کر آگے فروخت کرتا اور حاصل شدہ رقم گینگ کے ارکان میں تقسیم کرتا تھا۔ گرفتار ملزمان اصف اور مرتضیٰ گاڑیاں چوری کر کے اسماعیل کے حوالے کرتے تھے۔پولیس نے بتایا کہ گرفتار زخمی ملزمان کا سابقہ جرائم کا ریکارڈ بھی موجود ہے اور وہ پہلے بھی متعدد مقدمات میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ پولیس مقابلے اور برآمد شدہ اسلحے کے مقدمات تھانہ پاکستان بازار میں درج کر لیے گئے ہیں۔پولیس کے مطابق فرار ہونے والے ملزم اسماعیل چانڈیو کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار