پانی کی فراہمی کے نظام میں مزید بہتری کی جانب اہم قدم
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی میں پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید بہتر اور مستحکم بنانے کے لیے ایک اور اہم ترقیاتی اقدام کیا جا رہا ہے۔ کراچی واٹر سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ (KWSSIP) کے تحت اولڈ پپری مین پر نئی مائلڈ اسٹیل (MS) واٹر ٹرانسمیشن پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے،ئو جس کی تکمیل کے بعد شہر میں پانی کی ترسیل کے نظام میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔ ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق نئی بچھائی گئی واٹر ٹرانسمیشن لائن کو مکمل طور پر فعال اور آپریشنل بنانے کے لیے موجودہ نظام کے ساتھ انٹرکنکشن اور نامزد والوز کی تنصیب ناگزیر قرار دی گئی ہے۔ اسی مقصد کے تحت پرانی پپری پمپنگ اسٹیشن پر انٹرکنکشن اور مینٹیننس کے کام انجام دیے جائیں گے، جس کے باعث پرانی پپری پمپنگ اسٹیشن کو 96 گھنٹوں، یعنی چار روز کے لیے عارضی طور پر بند رکھنے کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ کام 10 جنوری بروز ہفتہ سے 13 جنوری بروز منگل تک جاری رہے گا۔ اس دوران پرانی پپری پمپنگ اسٹیشن سے شہر کو پانی کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہے گی، تاہم نئی پپری پمپنگ اسٹیشن سے شہر کو پانی کی فراہمی معمول کے مطابق جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مینٹیننس اور انٹرکنکشن کے باعث ملیر ٹاؤن، شاہ فیصل ٹاؤن، ماڈل زون ٹاؤن کے کچھ علاقوں سمیت ایس پی ایل اور پی آئی اے میں پانی کی فراہمی عارضی طور پر متاثر رہے گی۔ اس کے علاوہ مینٹیننس کے دوران لانڈھی اور شیرپاؤ ہائیڈرنٹس بھی عارضی طور پر بند رہیں گے۔ ترجمان کے مطابق پرانی پپری پمپنگ اسٹیشن کی عارضی بندش کے باعث شہر کو یومیہ تقریباً 60 ملین گیلن پانی کی عارضی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ کراچی کو مجموعی طور پر یومیہ تقریباً 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے، تاہم مینٹیننس کے دوران مجموعی فراہمی میں کمی کے باوجود شہر کو یومیہ تقریباً 590 ملین گیلن پانی کی فراہمی جاری رکھی جائے گی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پپری پمپنگ اسٹیشن پر نئی مرکزی واٹر ٹرانسمیشن پائپ لائن بچھانے کا بنیادی مقصد پانی کی ترسیل کے نظام کو بہتر، محفوظ اور مستحکم بنانا ہے۔ خستہ حال پرانی لائن کے باعث پانی کی فراہمی میں نمایاں کمی واقع ہو چکی تھی اور پپری پمپنگ اسٹیشن سے شہر کو پانی کی ترسیل مسلسل متاثر ہو رہی تھی، جس کے پیشِ نظر نئی لائن کی تنصیب ناگزیر ہو گئی تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی لائن کے فعال ہونے کے بعد شہر کو پانی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی اور مستقبل میں پانی کی ترسیل زیادہ مؤثر اور پائیدار بنیادوں پر ممکن ہو سکے گی۔ واٹر کارپوریشن نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مینٹیننس کے دوران پانی کا باکفایت استعمال کریں، کیونکہ شہر طویل المدتی بنیادوں پر بہتر پانی کی فراہمی کے نظام کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پانی کی فراہمی شہر کو پانی کی پانی کی ترسیل مینٹیننس کے میں پانی کی کے باعث کے نظام
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔