اسٹیٹ بینک قرض کی فراہمی کے طریقہ کار مزید سہل بنانے کے اقدامات کرے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک قرض کی فراہمی کے طریقہ کار مزید سہل بنانے کے اقدامات کرے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت جائزہ اجلاس ہوا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروبار اور زرعی قرض کی فراہمی کا طریقہ کار آسان بنانے کے اقدامات کیے جائیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ زراعت میں جدت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر قرض کی فراہمی یقینی بنائی جائے، معاون خصوصی ہارون اختر سمیڈا ٹیم کے ساتھ جی بی، کشمیر اور صوبوں میں جائیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق وفاقی حکومت نے نومبر 2025 میں 573 ارب روپے قرض لیا جس کے بعد حکومتی قرض 77543 ارب روپے ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروبار کی سہولت کے لیے صوبوں سے مل کر جامع پالیسی بنائیں، نوجوانوں کو انٹر پرنیورشپ کی تربیت دی جائے تاکہ نئے کاروبار شروع ہوں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نئے کاروبار شروع ہونے سے ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، نجی شعبے اور چھوٹے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے قرض کی فراہمی میں سہولت حکومت کی اولین ترجیحات میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قرض کی فراہمی نے کہا
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔