اسلام آباد:

وزیراعظم شہباز شریف نے زراعت کے شعبے میں جدت کے لیے سروس پرووائیڈرز کو ترجیحی طور پر قرض فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

چھوٹے و درمیانے پیمانے کے نئے کاروبار اور چھوٹے کسانوں کو قرض کی فراہمی میں سہولت، معاشی شمولیت و نجی شعبے کو قرض کی فراہمی پر جائزہ اجلاس وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں انہوں ے کہا کہ اسٹیٹ بینک کمرشل بینکوں کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

وزیراعظم نے ہدایات جاری کیں کہ زراعت کے شعبے میں جدت کے فروغ کے لیے سروس پرووائڈرز کو ترجیحی بنیادوں پر  قرض کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ معاون خصوصی ہارون اختر SMEDA کی ٹیم کے ہمراہ گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام صوبوں کا دورہ کریں اور چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروبار کی سہولت کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی سازی کریں۔

انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں SMEs معیشت اور صنعتوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ نوجوانوں کو  آنٹرپرنیورشپ کی تربیت دی جائے تاکہ نئے کاروبار شروع ہوں اور ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔

شہباز شریف کہنا تھا کہ نجی شعبے بالخصوص SMEs اور چھوٹے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے قرض کی فراہمی میں سہولت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، اور متعلقہ اعلی حکام کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان و آزاد جموں و کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے شرکت کی۔

اجلاس کو نجی شعبے کو گزشتہ برسوں میں کاروبار، مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے فراہم کیے گئے قرض کے اعداد و شمار اور معیشت کی بہتری کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں اضافے پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ 22-2021 کی نسبت دسمبر 2025 تک نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے قرض کی فراہمی میں بہتری آئی اور قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد دو گنا ہو کر 3 لاکھ 3 ہزار کی سطح عبور کر گئی اور قرض کا حجم 1.

1 ٹریلین پر پہنچ گیا۔

بریفنگ میں  مزید بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں رواں برس قرض سے مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد کا تخمینہ 30 لاکھ لگایا گیا ہے جب کہ گزشتہ برس یہ تعداد 28 لاکھ تھی۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے نئے کاروبار اور جدید مشینری کے لیے قرض کی فراہمی کو ترجیح دینے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ زرعی شعبے کو فراہم کیے گئے قرض میں جدید مشینری اور فصلوں کے ساتھ ساتھ لائیو اسٹاک اور فشریز کے شعبے بھی شامل ہیں۔

علاوہ ازیں SMEDA چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں کو مالیاتی امور کی تربیت اور آگاہی کے لیے جلد ایک پروگرام کا اجراء کرے گی۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ پنجاب میں کسانوں کو جدید زرعی آلات ومشینری کی فراہمی کے لیے سروس پروائڈرز کو قرض کی فراہمی کے پروگرام کا اجرا کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح چھوٹے کسانوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولیت کے لیے اسٹیٹ بینک کی جانب سے مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر مبنی "زرخیز-ای ایپ" کا اجرا بھی کیا چکا جس سے کسانوں کی بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ اس حوالے سے باقاعدگی سے بذات خود اجلاس کی صدارت اور نگرانی کریں گے اور جلد اس حوالے سے ایک ذیلی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے لیے نجی شعبے بالخصوص SME سیکٹر اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: درمیانے پیمانے کے کو قرض کی فراہمی کی فراہمی میں کی فراہمی کے بتایا گیا کہ کی جانب سے کسانوں کو لیے سروس کے ساتھ کو مزید شعبے کو کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف