وزیراعظم کی زراعت میں جدت کیلیے سروس پرووائیڈرز کو ترجیحاً قرض فراہمی کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے زراعت کے شعبے میں جدت کے لیے سروس پرووائیڈرز کو ترجیحی طور پر قرض فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
چھوٹے و درمیانے پیمانے کے نئے کاروبار اور چھوٹے کسانوں کو قرض کی فراہمی میں سہولت، معاشی شمولیت و نجی شعبے کو قرض کی فراہمی پر جائزہ اجلاس وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں انہوں ے کہا کہ اسٹیٹ بینک کمرشل بینکوں کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کے لیے اقدامات کرے۔
وزیراعظم نے ہدایات جاری کیں کہ زراعت کے شعبے میں جدت کے فروغ کے لیے سروس پرووائڈرز کو ترجیحی بنیادوں پر قرض کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ معاون خصوصی ہارون اختر SMEDA کی ٹیم کے ہمراہ گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام صوبوں کا دورہ کریں اور چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروبار کی سہولت کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی سازی کریں۔
انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں SMEs معیشت اور صنعتوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ نوجوانوں کو آنٹرپرنیورشپ کی تربیت دی جائے تاکہ نئے کاروبار شروع ہوں اور ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔
شہباز شریف کہنا تھا کہ نجی شعبے بالخصوص SMEs اور چھوٹے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے قرض کی فراہمی میں سہولت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، اور متعلقہ اعلی حکام کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان و آزاد جموں و کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے شرکت کی۔
اجلاس کو نجی شعبے کو گزشتہ برسوں میں کاروبار، مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے فراہم کیے گئے قرض کے اعداد و شمار اور معیشت کی بہتری کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں اضافے پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ 22-2021 کی نسبت دسمبر 2025 تک نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے قرض کی فراہمی میں بہتری آئی اور قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد دو گنا ہو کر 3 لاکھ 3 ہزار کی سطح عبور کر گئی اور قرض کا حجم 1.
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں رواں برس قرض سے مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد کا تخمینہ 30 لاکھ لگایا گیا ہے جب کہ گزشتہ برس یہ تعداد 28 لاکھ تھی۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے نئے کاروبار اور جدید مشینری کے لیے قرض کی فراہمی کو ترجیح دینے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ زرعی شعبے کو فراہم کیے گئے قرض میں جدید مشینری اور فصلوں کے ساتھ ساتھ لائیو اسٹاک اور فشریز کے شعبے بھی شامل ہیں۔
علاوہ ازیں SMEDA چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں کو مالیاتی امور کی تربیت اور آگاہی کے لیے جلد ایک پروگرام کا اجراء کرے گی۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ پنجاب میں کسانوں کو جدید زرعی آلات ومشینری کی فراہمی کے لیے سروس پروائڈرز کو قرض کی فراہمی کے پروگرام کا اجرا کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح چھوٹے کسانوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولیت کے لیے اسٹیٹ بینک کی جانب سے مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر مبنی "زرخیز-ای ایپ" کا اجرا بھی کیا چکا جس سے کسانوں کی بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ اس حوالے سے باقاعدگی سے بذات خود اجلاس کی صدارت اور نگرانی کریں گے اور جلد اس حوالے سے ایک ذیلی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے لیے نجی شعبے بالخصوص SME سیکٹر اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: درمیانے پیمانے کے کو قرض کی فراہمی کی فراہمی میں کی فراہمی کے بتایا گیا کہ کی جانب سے کسانوں کو لیے سروس کے ساتھ کو مزید شعبے کو کے لیے
پڑھیں:
ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
سری لنکا کی حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں تعینات قونصل جنرل سری لنکا سنجیوا پٹیوالا نے میڈیا سے گفتگومیں بتایا کہ سری لنکن حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی جس کے بعد سری لنکا جانے والے پاکستانیوں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے سری لنکا جانے والے ویزہ کی درخواست آن لائن دے سکتے ہیں۔
قونصل جنرل نے بتایا کہ پاکستان اور سری لنکن کے دوطرفہ تعلقات اہم ہیں، حکومت پاکستان نے 100 سری لنکن اسٹوڈنٹس کوعلامہ اقبال یونیورسٹی میں اسکالرشپ دی ہے جو ایک مثبت اقدام ہے۔
انہوں نے کاہ کہ پاکستان سری لنکا کےدرمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پرسن 2005 میں دستخط ہوئے تھے لیکن تاحال دونوں ملکوں میں ٹریڈ بیریئرز موجود ہیں۔
قونصل جنرل نے مزید کہا کہ پاکستان سری لنکا درمیان درمیان دفاعی تعلقات بھی اہم ہیں۔