جماعت اسلامی کا 21جنوری تا یکم فروری ’’کراچی اولمپکس ‘‘کرانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-01-11
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے ادارہ نورحق میں جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی کے تحت شہر بھر میں 21جنوری تا یکم فروری ’’کراچی اولمپکس ‘‘منعقد کیا جائے گا ، ’’کراچی اولمپکس‘‘اٹھو آگے بڑھو کراچی کے عنوان سے نوجوانوں کو آگے بڑھانے، ان کے ٹیلنٹ کو سامنے لانے اور کراچی کے روشن چہرے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ ایونٹ کی رجسٹریشن 8تا 16 جنوری تک جاری رہے گی۔ جوجماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹریٹ ادارہ نورِ حق میں شام 6 بجے سے 11 بجے تک جبکہ آن لائن 24 گھنٹے دستیاب ہوگی۔ کراچی اولمپکس میں 16 مختلف کھیلوں کے مقابلے ہوں گے جن میں ہاکی، کرکٹ، فٹبال، سٹی
میراتھن، باکسنگ، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، والی بال، رسا کشی، ڈوجنگ بال، سائیکلنگ، مارشل آرٹس، تھرو بال، روپ اسکیپنگ اور تیراندازی شامل ہیں۔ مقابلے یوسی، ٹاؤن اور ڈسٹرکٹ کی سطح پر منعقد کیے جائیں گے جبکہ یکم فروری کو اختتامی تقریب ہوگی۔پاکستان بالخصوص کراچی کو یہ برتری حاصل ہے کہ یہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے، مگر بدقسمتی سے ریاستی سطح پر نوجوانوں کو آگے بڑھانے، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں مثبت سرگرمیوں سے جوڑنے کے لیے وہ اقدامات نہیں کیے گئے جو حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے۔اسپورٹس، آئی ٹی، تعلیم اور ہنر مندی جیسے شعبوں میںریاست کو نوجوانوں کا ہاتھ تھامنا چاہیے، انہیں ضروری سہولیات اور باوقارو بامقصد شہری بنانا چاہیے، لیکن کراچی سمیت پورا ملک شدید حکومتی بد انتظامی ونااہلی کے باعث بحران کا شکار ہے۔صوبائی حکومت کے اسپورٹس و کلچر ڈپارٹمنٹ کی آفیشل رپورٹ کے مطابق کراچی میں 238 کھیلوں کے میدان موجود ہیں، مگر عملی طور پر یہ میدان قبضہ مافیا، کمرشلائزیشن اور حکومتی نااہلی کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں۔ جماعت اسلامی نے اس صورتحال کے خلاف عدالت سے رجوع کیا اور عدالت نے واضح فیصلہ دیا کہ پارکس اور کھیلوں کے میدانوں میں کمرشل سرگرمیاں نہیں ہونی چاہئیں کیونکہ یہ عوامی مقامات ہیں۔منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی جو کبھی علم، تہذیب، ادب اور کھیلوں کا مرکز تھا، گزشتہ 35 سے 40 برس میں اس کی شناخت چھیننے کی منظم کوشش کی گئی۔ نوجوانوں کو تعلیم، اخلاق اور صحت مند سرگرمیوں سے دور کیا گیا جبکہ کھیلوں کے میدان اور پارکس کمرشل سرگرمیوں کی نذر کر دیے گئے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ اگر کوئی نوجوان فیس ادا کرے تو کھیل سکتا ہے، ورنہ اس کے لیے میدان بند ہیں۔امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا، گلشن اور لیاری جیسے علاقے کھیلوں کے حوالے سے زرخیز رہے ہیں۔ کراچی نے جانگیر خان، جاوید میانداد، سرفراز احمد، شاہد آفریدی، اسد شفیق، حسن سردار جیسے عالمی سطح کے کھلاڑی پاکستان کو دیے، مگر آج انہی میدانوں پر منشیات فروشوں کا قبضہ ہے۔لانڈھی میں موجود گراؤنڈ جو کچرا کنڈی اور منشیات کا اڈہ بن چکا تھا، اسے صاف کرکے روشن کیا گیا اور نوجوانوں کے لیے کھول دیا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔منعم ظفر خان نے کہا کہ دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو کھیلوں کو فروغ دیتی ہیں۔ نیدرلینڈ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کم آبادی کے باوجود ان ممالک نے اولمپکس میں درجنوں گولڈ میڈلز حاصل کیے جبکہ پاکستان کو 32 سال بعد ارشد ندیم کی صورت میں ایک گولڈ میڈل نصیب ہوا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیلنٹ موجود ہے مگر سرپرستی نہیں۔امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ جماعت اسلامی صرف کھیلوں ہی نہیں بلکہ نوجوانوں کی آئی ٹی ٹریننگ، اخلاقی تربیت، صنعت و تجارت کے فروغ اور اسٹارٹ اپس کے لیے بھی کوشاں ہے۔’’بنو قابل‘‘پروگرام کے تحت کراچی کے 70 ہزار سے زاید نوجوان مفت آئی ٹی تربیت حاصل کرچکے ہیں جبکہ ’’میرا برانڈ پاکستان‘‘جیسی نمائشوں کے ذریعے مقامی صنعت اور تاجر برادری کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔اگر جماعت اسلامی اپوزیشن میں رہتے ہوئے یہ سب کچھ کر سکتی ہے تو ریاست اور حکمران کیوں نہیںکرسکتے ؟ کراچی کے مسائل، اسٹریٹ کرائم، ٹریفک حادثات اور شہری بدانتظامی کے ذمے دار وہی حکمران ہیں جو دہائیوں سے اقتدار میں ہیں۔منعم ظفر خان نے‘‘کراچی اولمپکس’’کی آرگنائزنگ ٹیم اور چیف آرگنائزر رانا محمد انوار کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کراچی کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں رجسٹریشن کرا کے اس ایونٹ کو کامیاب بنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی اولمپکس جماعت اسلامی کھیلوں کے نے کہا کہ کراچی کے کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔