کھلاڑیوں کی سیکورٹی کو ملکی وقار پر سمجھوتا نہیں کریں گے،بنگلا دیش بھارت میں ورلڈ کپ نہ کھیلنے پر ڈٹ گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا (مانیٹر نگ ڈ یسک) بنگلادیش کے اسپورٹس ایڈوائزر ڈاکٹرآصف نذرل کا کہنا ہے کہ ہم اپنے کھلاڑیوں کے تحفظ اور اپنے ملک کے وقار پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، ہم دوسرے وینیو سری لنکا میں ورلڈکپ کھیلنا چاہتے ہیں۔ ڈھاکا میں بی سی بی صدر امین الاسلام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بنگلادیش کے اسپورٹس ایڈوائزر ڈاکٹرآصف نذرل کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ ہم آئی سی سی کو اس بات پر مؤثر انداز میں سمجھا سکیں گے، توقع ہے کہ آئی سی سی ہمارے مؤقف کو غیر جانبداری سے سنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش نے ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کیا ہوا ہے،
ہم کرکٹ سے پیارکرنے والے لوگ ہیں، ہم اپنے ملک کے وقار اور کھلاڑیوں کی سیکورٹی کو دیکھتے ہوئے ورلڈکپ کھیلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی نے اپنے خط میں بھارت میں بنگلادیشی کھلاڑیوں کو درپیش سیکورٹی خطرات پر کوئی خاص توجہ نہیں دی، یہ سیکورٹی کا بڑا ایشو ہے، بی سی سی آئی نے خود کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی ٹیم کو کہا کہ وہ مستفیض الرحمن کو سیکورٹی نہیں دے سکتے، یہ واضح ثبوت ہے کہ بھارت میں کھیل کے لیے ماحول محفوظ نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے کہ آئی سی سی ہمیں ورلڈکپ میں کھیلنے کا موقع دیگا، جس کے لیے ہم نے بے حد محنت کی ہے، ہم آج رات یا کل تک آئی سی سی کو دوبارہ خط لکھیں گے، ابھی تک ہمارا یہی فیصلہ ہے کہ بھارت ہمارے کھلاڑیوں کے لیے محفوظ نہیں اور آئی سی سی کوبھی یہی لکھیں گے۔ بی سی بی صدر امین الاسلام کا کہنا تھا کہ کسی بھی غیرملکی دورے کے لیے حکومتی اجازت درکار ہوتی ہے، اسی لیے حکومتی فیصلے پر عمل کریں گے، اگر سیکورٹی بہتر نہ ہوئی تو ہم اپنے حق کے لیے لڑتے رہیں گے، سری لنکا بھی میزبان ملک ہے اور ہم وہاں کھیلنا چاہتے ہیں، یہ صرف پروپیگنڈا ہے کہ آئی سی سی نے ہمیں کہا کہ سری لنکا میں کھلانا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی نے ہمیں ہمارا مسئلہ واضح کرنے کو کہا ہے، چمپئنز ٹرافی میں بھی ایسے ہی حالات بنے تھے، بھارت نے پاکستان اور پاکستان نے بھارت جانے سے انکار کیا تھا، اسی لیے ہمیں ایک مناسب حل کی امید ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ ا ئی سی سی کہنا تھا کہ کا کہنا کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔