مودی مجھ سے ناراض ہے، ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارتی وزیراعظم پر طنزیہ جملے کس دیئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے بھاری ٹیرف پر خوش نہیں ہیں۔ تاہم ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود ان کے اور مودی کے ذاتی تعلقات اچھے ہیں۔
امریکی صدر نے ہاؤس جی او پی ارکان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیے گئے ہیں، جن میں 25 فیصد اضافی ٹیکس روسی تیل کی خریداری سے متعلق ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا نے تجارتی دباؤ کے ذریعے بھارت کو روس سے تیل کی خریداری کم کرنے پر مجبور کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر بھارت نے روسی تیل کے معاملے پر تعاون نہ کیا تو امریکا مزید ٹیرف بھی عائد کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات یوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیںٹرمپ کو متاثر کرنے کیلئے مودی حکومت کی مہنگی لابنگ، سالانہ 18 لاکھ ڈالر خرچ
اگرچہ تجارتی تنازع جاری ہے، لیکن ٹرمپ نے کئی بار کہا کہ ان کے اور نریندر مودی کے درمیان ذاتی تعلقات مضبوط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی جانتے ہیں کہ انہیں خوش رکھنا ضروری ہے اور بھارت امریکی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کر رہا ہے۔
View this post on Instagramٹرمپ نے اپنی ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی نے ان سے دفاعی معاہدوں کے حوالے سے بات کی تھی، خاص طور پر اپاچی ہیلی کاپٹروں کی فراہمی پر۔ ان کے مطابق بھارت نے کئی برس قبل اپاچی ہیلی کاپٹر آرڈر کیے تھے جن کی ترسیل میں تاخیر ہوئی، تاہم اب اس معاملے میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
امریکی صدر نے اپنے ٹیرف فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے امریکا کو مالی فائدہ ہو رہا ہے اور اربوں ڈالر امریکی معیشت میں آ رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارت نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ اس نے روسی تیل کی خریداری روکنے کی کوئی یقین دہانی کرائی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے کہا کہا کہ
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔