واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے ایک بار پھر عالمی سطح پر بے چینی پیدا کردی ہے، جہاں وینزویلا کے بعد اب گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے مختلف آپشنز پر سنجیدہ غور شروع کر دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اس حوالے سے اعلیٰ سطح کی  مشاورت جاری ہے، جس میں سفارتی راستوں کے ساتھ ساتھ عسکری آپشن پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ کو حاصل کرنا امریکا کی قومی سلامتی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اپنے موجودہ دورِ حکومت میں ہی اس معاملے کو کسی حتمی نتیجے تک پہنچانا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ اپنے مشیروں اور قومی سلامتی کے ماہرین کے ساتھ مختلف امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی عہدیدار کے مطابق زیر غور آپشنز میں ڈنمارک سے گرین لینڈ کو خریدنے کا منصوبہ بھی شامل ہے جب کہ جزیرے کے ساتھ آزادانہ وابستگی یا فری ایسوسی ایشن کے معاہدے پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ عسکری آپشن آخری چارہ ہوگا، تاہم اس امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا گیا، جس نے نیٹو ممالک اور یورپی اتحادیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

وائٹ ہاؤس ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں کہا گیاہ ے کہ گرین لینڈ سے متعلق معاملہ تاحال بند نہیں ہوا اور صدر ٹرمپ اس جزیرے کو حاصل کرنے میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے ہیں۔

اُدھر بعض نیٹو ممالک کے رہنماؤں نے اس حوالے سے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے، تاہم امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی عالمی کشمکش کے تناظر میں گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ ہو چکا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ پر امریکی دلچسپی کی بنیادی وجوہات میں قدرتی وسائل، جغرافیائی محل وقوع اور دفاعی اہمیت شامل ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ بیانات سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکا آنے والے عرصے میں اس معاملے پر مزید جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کر سکتا ہے، جس کے عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل گرین لینڈ وائٹ ہاؤس

پڑھیں:

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک

فائل فوٹو۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ 

مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان