ایم ایل ون کو خطرہ، 465 ارب روپے کا متنازع موٹر وے منصوبہ منظور
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے کے 465 ارب روپے مالیت کے صوبائی نوعیت کے منصوبے کو اصولی طور پر منظوری کے لیے سفارش کر دی، جو قومی مالیاتی معاہدے، وزیراعظم آفس کی ہدایات اور مالی وسائل کے فقدان کے باوجود دی گئی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کی لاگت دو سال پرانے تخمینے کے مقابلے میں 201 ارب روپے یا 76 فیصد زیادہ ہوچکی ہے،جبکہ یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اہم ایم ایل ون ریلوے منصوبے کی افادیت اور اپ گریڈیشن کو بھی خطرے میں ڈال سکتاہے۔
سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے منصوبے کو ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل کی حتمی منظوری کے لیے سفارش کی۔
پنجاب میں واقع موٹروے منصوبے کو وفاقی پبلک سیکٹرڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت فنانس کرنے کی تجویز دی گئی،جو نیشنل فِسکل پیکٹ کی خلاف ورزی ہے۔
دستاویزات کے مطابق منصوبے کو 2024 کے کمپوزٹ شیڈول آف ریٹس کی بنیاد پر منظورکیاگیا،حالانکہ 2025 کے کم لاگت سی ایس آر دستیاب تھے۔
مزید پڑھیںوزیر ریلوے نے ایم ایل ون پر سفری دورانیہ کم کرنے کیلیے ایک سال کا ٹاسک دے دیا
پلاننگ کمیشن کے تکنیکی ونگ نے سفارش کی ہے کہ نئی شرحوں کے مطابق لاگت کوکم اور معقول بنایاجائے۔ منصوبے کے تحت دو حصوں پر مشتمل موٹروے تعمیرکی جائیگی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے واضح ہدایات دی تھیں کہ پنجاب حکومت منصوبے کی کم از کم 50 فیصد لاگت برداشت کرے اور الائنمنٹ میں تبدیلی کے بعد پی سی ون پیش کیا جائے،مگر ان ہدایات پر عمل نہیں کیاگیا،جبکہ منصوبے کیلیے کوئی قابلِ عمل فنانسنگ پلان یاحتمی ڈیزائن بھی موجودنہیں۔
پلاننگ کمیشن نے خبردارکیاہے کہ منصوبے کی شمولیت سے نیشنل ہائی وے اتھارٹی پر مالی دباؤ بڑھے گا،منصوبے کی منظوری سے دیگر اہم منصوبے جیسے قراقرم ہائی وے کی توسیع،سکھر،حیدرآبادموٹروے، کھاریاں،راولپنڈی موٹروے، لواری ٹنل اوردیامر بھاشاڈیم متاثر ہونے کاخدشہ ہے۔
سی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں پلاننگ کے وزیر نے متعددسوالات اٹھائے، تاہم وزارتِ مواصلات نے یقین دہانی کرائی کہ اعتراضات بعد میں دورکر لیے جائیں گے۔
اس ضمن میں سیکریٹری مواصلات سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر فائل ہونے تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: منصوبے کی منصوبے کو کے مطابق
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز