اتحاد ٹاؤن کی بحالی ایک انتہائی اہم منصوبہ ہے‘میئر
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر)میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے حب ریور روڈ تا طوری بنگش روڈ اتحاد ٹاؤن کی بحالی کے میگا انفرااسٹرکچر منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا، یہ منصوبہ 850 ملین روپے سے زائد لاگت کی ترقیاتی اسکیموں کا حصہ ہے جس کا مقصد شہری ترقی، بہتر سفری سہولیات، نکاسی آب کے دیرینہ مسائل کا حل اور کچی آبادیوں کو پائیدار ترقی کے دھارے میں شامل کرنا ہے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حب ریور روڈ تا طوری بنگش روڈ اتحاد ٹاؤن کی بحالی ایک انتہائی اہم منصوبہ ہے جو دو اضلاع کو آپس میں ملاتا ہے اور اورنگی، کیماڑی اور اطراف کے علاقوں کے لیے ایک بڑی شاہراہ کی حیثیت رکھتا ہے، انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر 80 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی اور حب ریور روڈ کو ڈوئل کیرج وے میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ ٹریفک کے دیرینہ مسائل کا مستقل حل ممکن ہو سکے،میئر کراچی نے کہا کہ 12 ہزار 500 فٹ طویل ڈوئل کیرج وے کی تعمیر ٹریفک روانی بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، منصوبے میں 8 ہزار فٹ جدید ڈرینیج سسٹم شامل کیا گیا ہے جبکہ نکاسی آب کی بہتری کے لیے 21 ہزار فٹ سے زائد آر سی سی پائپ لائن بچھائی جائے گی، ان اقدامات سے علاقے میں برساتی پانی اور سیلابی صورتحال کا خاتمہ ممکن ہوگا،انہوں نے کہا کہ حب ریور روڈ پر اسٹریٹ لائٹس نصب کی جائیں گی جبکہ طوری بنگش کی اندرونی گلیوں میں پیور بلاکس بچھائے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حب ریور روڈ نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔