قرآنی تعلیمات سے خواتین وطالبات کو جوڑناناگزیر ہے، حمیرا طارق
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی کے تحت رمضان المبارک میں شہر بھر میں 2 ہزار سے زاید مقامات پر دورہ قرآن کے مراکز قائم کیے جائیں گے، جہاں اعلیٰ ابلاغی صلاحیتوں کی حامل تربیت یافتہ مدرسات مربوط منصوبہ بندی کے تحت قرآن پاک کی تعلیم دیں گی۔ان خیالات کا اظہار سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان حمیرا طارق نے دورہ قرآن کے سلسلے میں منعقدہ آن لائن ٹریننگ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کی آفاقی تعلیمات سے زیادہ سے زیادہ خواتین اور طالبات کو جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قرآن محض تلاوت کی نہیں بلکہ عمل کی کتاب ہے اور آج معاشرے کو درپیش بے شمار مسائل کی بنیادی وجہ قرآن پاک سے دوری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مدرسات کو نبی کریم ؐ کے اسوہ حسنہ کو مشعل راہ بناتے ہوئے سسکتی اور بلکتی انسانیت کو قرآن سے جوڑنے کی جدوجہد کرنی چاہیے تاکہ افراد اور معاشرے کی زندگیاں بدل سکیں۔ رمضان المبارک قرآن سے قربت کا مہینہ ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ انفرادی تقویٰ اجتماعی تقویٰ میں ڈھلے، نیکی کی قوتیں مضبوط ہوں اور بدی کے علمبردار پسپا ہوں۔ قرآن پاک ایک انقلابی کتاب ہے جو فرد سے لے کر معاشرے تک کو سرخرو کرنے کے لیے نازل کی گئی۔اس موقع پر ناظمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی جاوداں فہیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتی ہوئی دنیا ایک متبادل نظام کی متلاشی ہے اور قرآن پاک انسان کو فرسودہ انسانی غلبے سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام مخالف قوتیں اسلام کے غلبے اور مسلمانوں کی بیداری سے خوفزدہ ہیں، اسی لیے وہ اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے مسلمانوں کو دین سے دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔جاوداں فہیم نے بتایا کہ کراچی میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری دورہ قرآن کا سلسلہ اس سال 25 شعبان سے 25 رمضان تک جاری رہے گا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ قرآن شارٹ کورسز کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔