کراچی:

ایلون مسک کے مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم Grok کے ذریعے خواتین اور بچوں کی جنسی تصاویر بنانے پر تنازع کھڑا ہوگیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس ( سابقہ ٹوئٹر) پر موجود اے آئی چیٹ بوٹ Grok اس وقت دنیا بھر میں تنقید کی زد میں ہے۔ اس پر الزام ہے کہ یہ خواتین اور بچوں کی اجازت کے بغیر جنسی نوعیت کی تصاویر تیار کر رہا ہے۔

یہ تنازع تب شدت اختیار کر گیا جب گزشتہ سال Grok Imagine متعارف کروایا گیا جو صارفین کو تحریری ہدایات سے تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی سہولت دیتا ہے۔  اس میں ایک 'اسپائسی موڈ' بھی شامل ہے جس سے فحش مواد تیار کیا جا سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق 25 دسمبر سے یکم جنوری کے درمیان تیار کردہ 20 ہزار تصاویر میں کم از کم 30 تصاویر میں بچوں کو نیم عریاں لباس میں دکھایا گیا۔ xAI نے اس معاملے پر وضاحت میں کہا ہے کہ غیر قانونی مواد ہٹایا جاتا ہے، اکاؤنٹس معطل کیے جاتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کیا جاتا ہے۔

برطانیہ میں ٹیکنالوجی سیکریٹری نے اس مواد کو ناقابل قبول قرار دیا اور ریگولیٹر Ofcom نے فوری وضاحت طلب کی۔ پولینڈ میں بھی ڈیجیٹل تحفظ کے مزید سخت قوانین کا مطالبہ کیا گیا۔

یورپی یونین نے بھی سخت ردعمل دیا اور فرانس میں استغاثہ نے ایکس کے خلاف جاری تحقیقات میں جنسی نوعیت کے ڈیپ فیک مواد کو شامل کیا۔

بھارت نے ایکس کو 72 گھنٹے میں غیر قانونی مواد ہٹانے اور تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا جبکہ ملائیشیا اور برازیل میں بھی تحقیقات شروع ہو گئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ Grok کے ذریعے تیار کی گئی نازیبا تصاویر نے ایک بار پھر اے آئی سے جڑے اخلاقی، قانونی اور سماجی خطرات کو اجاگر کر دیا ہے اور مستقبل میں AI کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت قوانین کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت