Jasarat News:
2026-07-24@03:15:10 GMT

یہ جنگ پاکستان کی جنگ ہے

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں درست نشاندہی کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ محض فوج کی جنگ نہیں بلکہ یہ پاکستان اور ریاست پاکستان کی جنگ ہے۔ اس جنگ سے نمٹنا یا اس کا مقابلہ کرنا حکومت سمیت تمام فریقوں کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس جنگ کی ساری ذمے داری فوج نے اپنے کندھوں پر لے لی ہے یا ان کے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے۔ حکمران طبقات نجی مجالس میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہ جنگ ہماری نہیں بلکہ افواج پاکستان کی جنگ ہے۔ اسی لیے اس جنگ میں پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت کا کردار محدود نظر آتا ہے۔ خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن پر وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان بھی تقسیم دیکھنے کو مل رہی ہے۔ صوبائی حکومت نے دو ماہ قبل دہشت گردی کے خلاف جنگ سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ جرگہ بلایا تھا۔ جرگے میں حکومت اور اپوزیشن سمیت پارلیمنٹ سے باہر موجود تمام جماعتوں، قبائلی عمائدین اور میڈیا کے لوگوں کو دعوت دی گئی تھی۔ اس جرگے کے مشترکہ اعلامیہ میں صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی اور فوجی آپریشن کے بارے میں صوبائی حکومت سمیت تمام جماعتوں اور فریقوں کو اعتماد میں لے کر فیصلہ سازی کو یقینی بنایا جائے۔ لیکن بدقسمتی سے ابھی تک ہمیں وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور کے پی کے کی صوبائی حکومت کے درمیان ان معاملات پر کوئی تعاون اور اتفاق رائے دیکھنے کو نہیں مل رہا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ دہشت گرد ایک مخصوص جماعت پر حملہ نہیں کرتے بلکہ دیگر لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے بعض جماعتوں پر دہشت گردوں کی سہولت کاری کا الزام بھی لگایا۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں اس طرح کی بیان بازی یا الزام تراشی کوئی اچھی بات نہیں، اس سے یقینی طور پر پہلے سے موجود تلخیوں میں اور زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس وقت پاکستان کے دو صوبے یعنی بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ ایک طرف بھارت کی جانب سے ہمیں خطرات کا سامنا ہے تو دوسری طرف بھارت اور افغانستان کے درمیان پاکستان کے خلاف باہمی گٹھ جوڑ بھی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا حصہ بنا ہوا ہے۔ ہمیں بھارت اور افغانستان کی جانب سے ایک پراکسی جنگ کا سامنا بھی ہے۔ ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے ہمیں داخلی طور پر اتفاق رائے اور متفقہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں پاکستان میں جاری سیاسی محاذ آرائی، ٹکراؤ اور تناؤ کی وجہ سے سیاست میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا بھرپور فائدہ دہشت گرد اٹھا رہے ہیں۔ اصولی طور پر تو وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان فوجی آپریشن کے حوالے سے مذاکرات ہونے چاہیے تھے اور جو بھی قدم اٹھایا جاتا وہ سب کی مرضی اور منشا کے مطابق ہوتا۔ یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ فوجی آپریشن پر تحفظات محض پی ٹی آئی کو ہی نہیں ہے بلکہ مولانا فضل الرحمن بھی فوجی آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ اے این پی بھی حکومتی موقف کے برعکس ہے۔ اس لیے جس صوبے میں فوجی آپریشن ہونا ہے وہاں کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا اور بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔پارلیمنٹ کا ان کیمرہ سیشن اس مسئلے پر طلب کر کے اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔ اس معاملے کو اگر جذباتیت یا محض الزام تراشیوں کی بنیاد پر لے کر آگے چلنا ہے تو اس سے نہ صرف ٹکراؤ پیدا ہوگا بلکہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیابی ممکن نہیں ہوسکے گی۔ جب ڈی جی آئی ایس پی آر یہ کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کی جنگ ہے اور مل کر اس جنگ کی قیادت کرنی ہے تو پھر ایسے میں سب پاکستانیوں کو ساتھ لے کر ہی آگے بڑھنے سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں افغانستان کا طرز عمل پاکستان کے حوالے سے کافی مایوس کن ہے۔ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر افغانستان کی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ملک میں دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی ختم کر دیں اور اگر وہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں تو ان کے خلاف ایکشن لیا جانا چاہیے۔ اسی طرح اس وقت وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان جو مسائل ہیں ان کا حل بھی سامنے آنا چاہیے۔ جب ہم اس جنگ کا ملبہ ایک سیاسی جماعت پر ڈالنے کی کوشش کریں گے تو پھر اس جماعت کا رد عمل کسی بھی صورت میں حکومت کے حق میں نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے دونوں صوبے بلوچستان اور خبر پختون خوا ملکی سلامتی کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں اور اگر ان دونوں صوبوں کے حالات میں بہتری نہیں آتی اور دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوتا تو پھر سیاسی اور معاشی استحکام بھی بہت پیچھے چلا جائے گا۔ اس لیے پاکستان کی سیاسی قیادت کو ان اہم معاملات میں زیادہ تدبر کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور تلخیوں کو کم کرنا ہوگا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان بھی درست ہے کہ سیاست اور سیاسی جماعتوں کے لیے ریاست کا مفاد سب سے زیادہ اہم ہونا چاہیے۔ لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ ریاست کا مفاد کیا ہے اور کیسے قائم کیا جاتا ہے اور کیوں اس میں پارلیمنٹ جیسے اہم اداروں کو نظر انداز کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سیاست اور جمہوریت میں پارلیمنٹ کی سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے اور جب تک ہم اس طرح کے بڑے فیصلوں میں پارلیمنٹ کو فیصلہ سازی کا حصہ نہیں بنائیں گے تو اس سے نہ صرف سیاست اور جمہوریت بلکہ پارلیمنٹ کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ پی ٹی آئی کو بھی اس تاثر کی نفی کرنی چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں محض اپنے سیاسی مسائل کی وجہ سے اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ کے پی کے حکومت کو چاہیے کہ وہ واضح طور پر دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور فوجی آپریشن کے حوالے سے اپنے نکات سب کے سامنے پیش کرے۔ اگرچہ پی ٹی آئی کہتی ہے کہ جو صوبائی جرگے نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے ان ہی نکات کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن مسئلہ وہی بداعتمادی کے ماحول کا ہے۔ اس بداعتمادی کی ایک بڑی بھاری قیمت پاکستان کو اپنی داخلی سیاست کے تناظر میں ادا کرنا پڑ رہی ہے اور خود ہماری سفارتی کوششیں بھی ان حالات میں وہ نتیجہ پیدا نہیں کر رہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے۔ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کا جو عمل دوحا، ترکی اور سعودی عرب میں ہوا وہ بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکا اور طالبان کا رویہ پاکستان کی توقعات کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ ایسے میں جہاں ہمیں اپنی سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور دیگر ممالک کے ساتھ بھارت اور افغانستان پر دباؤ بڑھانا ہے وہیں ہماری پہلی ترجیح داخلی مسائل سے نمٹنا اور موثر حکمت عملی اختیار کرنا بھی ہونی چاہیے۔ اس لیے سیاسی جماعتوں سمیت اسٹیبلشمنٹ کو اپنی اپنی سیاسی اناؤں اور ضد سے باہر نکل کر ایک بڑے مقصد کو مد نظر رکھتے ہوئے بڑا اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جب ہم داخلی طور پر تقسیم ہوں گے تو ہم نہ صرف اپنا نقصان کر یں گے بلکہ دہشت گردوں کے سہولت کار بھی ثابت ہوں گے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر پاکستان کی جنگ ہے اسٹیبلشمنٹ اور میں پارلیمنٹ صوبائی حکومت فوجی ا پریشن وفاقی حکومت پاکستان کے اتفاق رائے پی ٹی ا ئی کے درمیان ضرورت ہے نہیں ہو کہ دہشت ہے اور کے لیے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار