Jasarat News:
2026-06-02@23:52:55 GMT

یہ جنگ پاکستان کی جنگ ہے

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں درست نشاندہی کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ محض فوج کی جنگ نہیں بلکہ یہ پاکستان اور ریاست پاکستان کی جنگ ہے۔ اس جنگ سے نمٹنا یا اس کا مقابلہ کرنا حکومت سمیت تمام فریقوں کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس جنگ کی ساری ذمے داری فوج نے اپنے کندھوں پر لے لی ہے یا ان کے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے۔ حکمران طبقات نجی مجالس میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہ جنگ ہماری نہیں بلکہ افواج پاکستان کی جنگ ہے۔ اسی لیے اس جنگ میں پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت کا کردار محدود نظر آتا ہے۔ خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن پر وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان بھی تقسیم دیکھنے کو مل رہی ہے۔ صوبائی حکومت نے دو ماہ قبل دہشت گردی کے خلاف جنگ سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ جرگہ بلایا تھا۔ جرگے میں حکومت اور اپوزیشن سمیت پارلیمنٹ سے باہر موجود تمام جماعتوں، قبائلی عمائدین اور میڈیا کے لوگوں کو دعوت دی گئی تھی۔ اس جرگے کے مشترکہ اعلامیہ میں صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی اور فوجی آپریشن کے بارے میں صوبائی حکومت سمیت تمام جماعتوں اور فریقوں کو اعتماد میں لے کر فیصلہ سازی کو یقینی بنایا جائے۔ لیکن بدقسمتی سے ابھی تک ہمیں وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور کے پی کے کی صوبائی حکومت کے درمیان ان معاملات پر کوئی تعاون اور اتفاق رائے دیکھنے کو نہیں مل رہا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ دہشت گرد ایک مخصوص جماعت پر حملہ نہیں کرتے بلکہ دیگر لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے بعض جماعتوں پر دہشت گردوں کی سہولت کاری کا الزام بھی لگایا۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں اس طرح کی بیان بازی یا الزام تراشی کوئی اچھی بات نہیں، اس سے یقینی طور پر پہلے سے موجود تلخیوں میں اور زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس وقت پاکستان کے دو صوبے یعنی بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ ایک طرف بھارت کی جانب سے ہمیں خطرات کا سامنا ہے تو دوسری طرف بھارت اور افغانستان کے درمیان پاکستان کے خلاف باہمی گٹھ جوڑ بھی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا حصہ بنا ہوا ہے۔ ہمیں بھارت اور افغانستان کی جانب سے ایک پراکسی جنگ کا سامنا بھی ہے۔ ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے ہمیں داخلی طور پر اتفاق رائے اور متفقہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں پاکستان میں جاری سیاسی محاذ آرائی، ٹکراؤ اور تناؤ کی وجہ سے سیاست میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا بھرپور فائدہ دہشت گرد اٹھا رہے ہیں۔ اصولی طور پر تو وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان فوجی آپریشن کے حوالے سے مذاکرات ہونے چاہیے تھے اور جو بھی قدم اٹھایا جاتا وہ سب کی مرضی اور منشا کے مطابق ہوتا۔ یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ فوجی آپریشن پر تحفظات محض پی ٹی آئی کو ہی نہیں ہے بلکہ مولانا فضل الرحمن بھی فوجی آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ اے این پی بھی حکومتی موقف کے برعکس ہے۔ اس لیے جس صوبے میں فوجی آپریشن ہونا ہے وہاں کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا اور بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔پارلیمنٹ کا ان کیمرہ سیشن اس مسئلے پر طلب کر کے اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔ اس معاملے کو اگر جذباتیت یا محض الزام تراشیوں کی بنیاد پر لے کر آگے چلنا ہے تو اس سے نہ صرف ٹکراؤ پیدا ہوگا بلکہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیابی ممکن نہیں ہوسکے گی۔ جب ڈی جی آئی ایس پی آر یہ کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کی جنگ ہے اور مل کر اس جنگ کی قیادت کرنی ہے تو پھر ایسے میں سب پاکستانیوں کو ساتھ لے کر ہی آگے بڑھنے سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں افغانستان کا طرز عمل پاکستان کے حوالے سے کافی مایوس کن ہے۔ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر افغانستان کی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ملک میں دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی ختم کر دیں اور اگر وہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں تو ان کے خلاف ایکشن لیا جانا چاہیے۔ اسی طرح اس وقت وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان جو مسائل ہیں ان کا حل بھی سامنے آنا چاہیے۔ جب ہم اس جنگ کا ملبہ ایک سیاسی جماعت پر ڈالنے کی کوشش کریں گے تو پھر اس جماعت کا رد عمل کسی بھی صورت میں حکومت کے حق میں نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے دونوں صوبے بلوچستان اور خبر پختون خوا ملکی سلامتی کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں اور اگر ان دونوں صوبوں کے حالات میں بہتری نہیں آتی اور دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوتا تو پھر سیاسی اور معاشی استحکام بھی بہت پیچھے چلا جائے گا۔ اس لیے پاکستان کی سیاسی قیادت کو ان اہم معاملات میں زیادہ تدبر کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور تلخیوں کو کم کرنا ہوگا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان بھی درست ہے کہ سیاست اور سیاسی جماعتوں کے لیے ریاست کا مفاد سب سے زیادہ اہم ہونا چاہیے۔ لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ ریاست کا مفاد کیا ہے اور کیسے قائم کیا جاتا ہے اور کیوں اس میں پارلیمنٹ جیسے اہم اداروں کو نظر انداز کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سیاست اور جمہوریت میں پارلیمنٹ کی سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے اور جب تک ہم اس طرح کے بڑے فیصلوں میں پارلیمنٹ کو فیصلہ سازی کا حصہ نہیں بنائیں گے تو اس سے نہ صرف سیاست اور جمہوریت بلکہ پارلیمنٹ کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ پی ٹی آئی کو بھی اس تاثر کی نفی کرنی چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں محض اپنے سیاسی مسائل کی وجہ سے اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ کے پی کے حکومت کو چاہیے کہ وہ واضح طور پر دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور فوجی آپریشن کے حوالے سے اپنے نکات سب کے سامنے پیش کرے۔ اگرچہ پی ٹی آئی کہتی ہے کہ جو صوبائی جرگے نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے ان ہی نکات کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن مسئلہ وہی بداعتمادی کے ماحول کا ہے۔ اس بداعتمادی کی ایک بڑی بھاری قیمت پاکستان کو اپنی داخلی سیاست کے تناظر میں ادا کرنا پڑ رہی ہے اور خود ہماری سفارتی کوششیں بھی ان حالات میں وہ نتیجہ پیدا نہیں کر رہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے۔ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کا جو عمل دوحا، ترکی اور سعودی عرب میں ہوا وہ بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکا اور طالبان کا رویہ پاکستان کی توقعات کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ ایسے میں جہاں ہمیں اپنی سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور دیگر ممالک کے ساتھ بھارت اور افغانستان پر دباؤ بڑھانا ہے وہیں ہماری پہلی ترجیح داخلی مسائل سے نمٹنا اور موثر حکمت عملی اختیار کرنا بھی ہونی چاہیے۔ اس لیے سیاسی جماعتوں سمیت اسٹیبلشمنٹ کو اپنی اپنی سیاسی اناؤں اور ضد سے باہر نکل کر ایک بڑے مقصد کو مد نظر رکھتے ہوئے بڑا اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جب ہم داخلی طور پر تقسیم ہوں گے تو ہم نہ صرف اپنا نقصان کر یں گے بلکہ دہشت گردوں کے سہولت کار بھی ثابت ہوں گے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر پاکستان کی جنگ ہے اسٹیبلشمنٹ اور میں پارلیمنٹ صوبائی حکومت فوجی ا پریشن وفاقی حکومت پاکستان کے اتفاق رائے پی ٹی ا ئی کے درمیان ضرورت ہے نہیں ہو کہ دہشت ہے اور کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم