Jasarat News:
2026-06-02@23:37:03 GMT

حصول مقصد میں رویوں کا کردار

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پروفیسر ڈاکٹر انیس خورشید (1924-2008)

رویہ سوچ کا ایک مخصوص انداز ہوتا ہے جس کا محور کسی شخص کا کسی اہم مقصد کے حصول کے بارے میں ان کی کاوشوں، طریقہ عمل، سوسائٹی میں اس کے منفعت بخش اثرات کا مجموعی تاثر یا نظریے کا احاطہ کرنا ہوتا ہے یوں سمجھ لیجیے کہ اگر کوئی کسی شخص کے بارے میں یہ کہے کہ وہ مثبت ذہنی سوچ رکھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا مثبت ذہنی رویہ (Positive Mental Attitude) ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ نامساعد حالات میں بھی بھلائی کے بارے میں نہ صرف سوچتا ہے بلکہ پْر مقصد عملی اقدام کرنے اور اس کے نتائج کے بارے میں پْر امید رہتا ہے۔ ذہنی رویوں (Mental Attitudes) کے سلسلے میں انتظامی سائنس مینجمنٹ کے ماہرین اس بات سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ مثبت رویے اپنے مقصد میں کامیابی کی اہم سیڑھی ہیں۔ دینی اور فطری تقاضا بھی اس نقطہ ٔ نظر کی تائید کرتا ہے خود اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں سیدنا موسیٰؑ سے فرعون کو رشد و ہدایت کے عظیم مقصد کی دعوت دیتے وقت یہ حکم دیا کہ: ترجمہ: تم اس کو نرم بات کہو شاید وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔ (طہ: 45)

اس ضمن میں ایک کیس اسٹڈی پروفیسر ڈاکٹر انیس خورشید پیش خدمت ہے جو ڈاکٹر صاحب کے 1) ذہنی مثبت رویے (Mental Positive Attitude) اور 2) ذاتی رویے (Personal Attitude) کا مختصراً احاطہ کرتی ہے۔

1) مثبت ذہنی رویہ؛ وژن: ڈاکٹر پروفیسر انیس خورشید کی تمام تر جدو جہد کا مقصد لائبریرین شپ کو جدید لائبریری سائنس اینڈ انفارمیشن کے مکمل نظام میں جدید علمی، معاشرتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ اپنے عظیم مقصد کی تکمیل کے لیے وہ ہر زاویے سے کامیاب نظر آتے ہیں۔

خدمات کی پزیرائی: ڈاکٹر انیس خورشید کے مشن کی تکمیل اور ان کی گرانقدر علمی تحقیقی عملی اقدامات پر دنیا بھر سے اہل علم حلقے سے بھرپور پزیرائی ملی جن میں لائبریری انفارمیشن سائنس شعبے کی غیر ملکی اور ملکی قد آور شخصیات شامل ہیں۔

قدر گوہر شاہ داند یا داند جوہری؛ اعترافات: ڈاکٹر انیس خورشید کا بہت بڑا کارنامہ قائد اعظم محمد علی جاح بانی پاکستان پر ببلیوگرافی ہے جو دو جلدوں میں اردو اور انگریزی سن 1978 میں چھپی۔ حکومت پاکستان نے ڈاکٹر صاحب کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی 1996 سے نوازا۔ یہ اعزاز حاصل کر نے والے وہ واحد شخصیت ہیں۔ڈاکٹر انیس خورشید کو جامعہ کراچی لائبریری سائنس و انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی گولڈن جوبلی تقریبات میں 2006 میں لائف ٹائم اچیونمنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہمدرد فاؤنڈیشن کی طرف سے (وثیقہ خدمت)۔ کابینہ کمیٹی نے 1982 میں لائبریریوں کی سہولیات اور دیگر تمام پہلوؤں پر ان کی ترقی و ترویج کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کی تشکیل دی اور ڈاکٹر انیس خورشید اس کے چیئرمین منتخب کیے گئے اور اس گروپ میں لائبرین شپ نظام پر جامع رپورٹ پیش کی جو بیوروکریسی کی نظر ہو گئی۔

نئی نسل کے لیے پیغام: ڈاکٹر انیس خورشید نے اپنی گراں قدر خدمات کے ذریعے نئی نسل کو یہ سبق دیا کچھ بھی نا ممکن نہیں بشرطیکہ خلوص اور سنجیدگی سے محنت کی جائے۔

ذاتی رویہ: جہاں تک ذاتی رویہ کا تعلق ہے اس سلسلے میں ان کے بڑے صاحبزادے مظہر جمیل سابق پروفیسر آف میتھ میٹکس نارتھ ویسٹرن اسٹیٹ یونیورسٹی لوزیانہ امریکا اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں: ’’ڈاکٹر انیس خورشید میرے والد گرامی ہیں۔ میں ان کے ساتھ قربت کے لحاظ سے ان کی مشاہدات کو صحیح طور پر بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ ان کی تعلیم نامکمل تھی، انڈیا سے ہائی اسکول کر کے پاکستان آگئے تھے۔ وقت کی ضرورت کی وجہ سے نوکری کرنا بھی ضروری تھا۔ اس لیے پاکستان میں بھی جاب کے ساتھ ساتھ پڑھائی پر دھیان دیا۔ صبح جاب کرنا، اس کے بعد اسلامیہ کالج میں بی اے میں داخلہ لیا، پھر وہاں سے فارغ ہوتے ہی دانشوروں کی محفل جو جبیس ہوٹل میں سجتی تھی، باقاعدگی سے اس میں شمولیت رہتی، پھر گھر پہنچ کر فیملی کی بھی ذمے داری تھی۔ گھر بمشکل گیارہ بجے سے پہلے نہیں پہنچ پاتے تھے۔ اکثر یونیورسٹی میں دیر تک کام کرنے کی وجہ سے پوائنٹ کی بس مس ہو جاتی تھی۔ تو ملیر کینٹ کی بس میں سفر کر کے گھر پہنچنے کے لیے آدھے گھنٹے سے زیادہ کا پیدل سفر طے کرنا پڑتا تھا۔

صبح ہم سب بھائی بہن ان کے اٹھنے سے قبل اسکول چلے جایا کرتے تھے۔ لیکن وہ ہماری پڑھائی سے غافل نہ تھے۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں اچانک باہر سے گھر میں داخل ہوا تو والد صاحب کو ہماری کاپیوں کی جانچ پڑتال میں مصروف پایا۔ وہ باقاعدگی سے ٹیچرز کے کمنٹس پڑھا کرتے تھے اور اس کے مطابق بچوں سے سوال جواب طلب کرتے تھے۔ چونکہ ان کو پڑھنے پڑھانے لکھنے لکھانے کا شوق تھا، اسی لیے وہ چاہتے تھے کہ بچے بھی اچھی تعلیم حاصل کریں۔ مجھے یاد ہے جب میں نے میٹرک کیا تو میری والدہ بھی خوش تھیں اور چاہتی تھیں کہ میں جاب کروں تا کہ گھر کا سہارا بنوں، لیکن والد صاحب نے کہا ہم اسے اعلیٰ تعلیم دلوائیں گے۔

بچوں سے خصوصاً لڑکیوں سے بہت محبت کرتے تھے اور اچھے سے اچھا کھلانے پلانے کی کوشش کرتے تھے۔ والدہ کا بھی بہت خیال کرتے تھے۔ ہماری والدہ نے گھر کو بہت اچھی طرح سنبھالا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دو مرتبہ ہم لوگوں کو دو سے پانچ سال تک چھوڑ کر امریکا اعلیٰ تعلیم کے لیے چلے گئے تھے اور وہاں سے باقاعدگی سے گھر کے اخراجات کے لیے پیسے بھیجتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد جب تمام خطوط جمع ہوئے تو علم ہوا کہ انڈیا میں بھی دادا دادی کو پیسے بھیجتے تھے۔ اپنے والدین اور بھائی بہنوں سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ سب کا خیال کرتے تھے اور خاص طور سے پڑھائی کے معاملے میں سب کی ہمت افزائی کرتے تھے اور ان کی کامیابیوں سے خوش ہوا کرتے تھے‘‘۔

ملازمین ؍ ماتحتوں سے رویہ: ڈاکٹر انیس خورشید صاحب اصول کے سخت پابند تھے انہوں نے دیانت داری محنت اور لگن سے کام کر کے لوگوں کے دل جیتے خوشامد پسند قطعی نہ تھے جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی میں کافی نقصان اٹھایا مگر اسی جستجو میں کام کرتے رہے اور وہ چاہتے تھے کہ تمام لوگ اصولوں کے پابند ہوں وعدہ خلافی قطعی ناپسند تھی وہ چاہتے تھے کہ اگر آپ کوئی کام کر سکتے ہیں تو ذمے داری لیں اور وقت پر مکمل کریں چاہے اپنا نقصان کیوں نہ ہو لیکن تاخیر قطعی نا پسند تھی اسی وجہ سے کچھ لوگ ان کے خلاف ہوئے جبکہ غلط کام وہی لوگ کر رہے تھے دیانتداری اتنی تھی کہ اپنے مخالفین کے کاموں میں بھی تاخیر نہ کی ہمیشہ لوگوں کو تعلیم حاصل کرنے اور اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے ان کی حمایت کرتے تھے کچھ ملازمین ایسے تھے جنہوں نے ملازمت کا آغاز چپراسی سے کیا اور جاب کے ساتھ ساتھ ایم اے یا ایم ایس سی کر کے کالج میں پروفیسر ہو گئے کوئی تو چیف اکاؤنٹنٹ بھی بن گیا ایسی کئی مثالیں ہیں ان کا رویہ تمام لوگوں کے ساتھ بڑا مشفقانہ تھا جو لوگ اصول کے پابند تھے محنت سے کام کرتے تھے انہوں نے فائدہ اٹھایا اور ترقی کی، دوسرے لوگ سیاست کرتے رہے۔

طلبہ کے ساتھ ان کا رویہ: ڈاکٹر انیس خورشیدؒ طلبہ کی نظر میں نہایت مقبول اور محترم شخصیت تھے۔ انہیں ایک باصلاحیت استاد ہی نہیں بلکہ شفیق سرپرست کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ ان کی علمی خدمات اور تصانیف آج بھی اہل ِ علم اور طلبہ کے لیے استفادے کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے لائبریری سائنس کے نصاب میں کمپیوٹر کورس شامل کر کے ایک انقلابی قدم اٹھایا، جس کے نتیجے میں لاکھوں طلبہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔ ان کی انہی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں جامعہ کراچی نے کمپیوٹر لیب کو ان کے نام سے منسوب کیا۔

ڈاکٹر انیس خورشید کو پاکستان میں جدید لائبریری سائنس کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک ممتاز محقق کے طور پر بھی یاد کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان کے انتقال کو بیس برس ہونے والے ہیں، مگر آج بھی انہیں عزت، عظمت اور قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ شعبہ میں اپنے معاون کے ساتھ محبت اور شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے ان کی بہتری کے لیے ہمیشہ باہر سے اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے کوشاں رہتے تھے لیکن کبھی اصولوں پر سودا نہ کیا جس نے محنت اور لگن سے کام کیا اس کی ہمیشہ ہمت افزائی کی اور قدر کی یہی وجہ ہے کہ لوگ آج بھی انہیں اچھے لفظوں سے یاد کرتے ہیں۔

ڈاکٹر انیس خورشید اور ان کی اہلیہ محترمہ رقیہ بیگم نے بے انتہا قربانیاں دے کر اپنے بچوں کی بے مثل تربیت کی۔ ان کے بیٹے شفیق اجمل ڈائریکٹر درسِ قرآن ڈاٹ کام ویب سائٹ کا اجرا کیا۔ انہوں نے علمائے کرام کا ایک شاندار گلدستہ ترتیب دیا۔ جید، نامور، مستند، عظیم شہرت کے حامل ان علمائے کرام نے اپنی خدمات سے دین ِ اسلام کے فہم اور فروغ میں اپنا گراں قدر حصہ ملایا۔ آج درسِ قرآن ڈاٹ کام ویب سائٹ دنیا بھر میں ایک انتہائی قابل ِ اعتماد منفرد مقام رکھتی ہے دو دہائی پر محیط درسِ قرآن ڈاٹ کام سے دنیا بھر کے کروڑوں افراد نے استفادہ کیا۔ مولانا انور غازی کہتے ہیں کہ انسان دنیا میں تین چیزیں چھوڑ کر جاتا ہے۔ (1) نیک اعمال، (2) صدقہ جاریہ، (3) نیک اولاد۔ ڈاکٹر انیس خورشید یہ تینوں کام کر گئے۔

خدا رحمت کند این عاشقانِ پاک طینت را

پروفیسر صفدر احمد خان سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر انیس خورشید لائبریری سائنس کرتے تھے اور کے بارے میں انہوں نے کے ساتھ میں بھی کے لیے سے کام کام کر اور ان

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟